Al-Risala · September 1982 · page 41

مردانِ کار کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۱

حقیقت یہ ہے کہ خدا نے انسان کی فطرت میں وہ سب کچھ بھر دیا ہے جس کی اسے اپنی زندگی میں ضرورت ہے۔ عام حالات میں یہ فطرت ڈھکی ہوئی رہتی ہے۔ اسی انسانی فطرت سے جمود اور تعصب اور بے شعوری کے پردوں کو ہٹانا اسلامی دعوت کا اصل کام ہے۔ ان پردوں کے ہٹتے ہی انسانی فطرت اس آفاقی روشنی میں آجا تی ہے جس سے تمام زمین و آسمان جگمگارہے ہیں۔ اس کے بعد ہر چیز اس کو اپنے واقعی روپ میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ اور جو آدمی چیزوں کو ان کے واقعی روپ میں دیکھ لے اس کے لیے پروگرام کا مسئلہ اتناہی آسان ہو جاتا ہے جتنا آنکھ والے ایک شخص کے لیے سیڑھی کے زینوں پر قدم رکھتے ہوئے کسی عمارت کے اوپر چڑھنا۔

یہاں میں ایک واقعہ نقل کروں گا جو اس مسئلہ کو بہت خوبی کے ساتھ واضح کرتا ہے۔

ایک ہندوستانی خاتون اپنے شوہر کے ساتھ طرابلس میں رہتی تھیں۔ وہ عربی نہیں جانتی تھیں۔ وہاں ان کی زندگی بالکل گھریلو زندگی تھی۔ باہر کی دینیا سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ ایک روز رات کو اچانک ان کے شوہر کے پیٹ میں سخت درد اٹھا۔ گھر میں بیوی کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا جو ڈاکٹر کو بلائے۔ طرابلس میں گھریلو ٹیلی فون بھی نہیں ہوتے کہ ٹیلی فون پر ڈاکٹر یا اسپتال سے رابطہ قائم کیا جائے۔ مگر بستر پر تڑپتا ہوا شوہر اور اس سے قلبی تعلق خاتون کے لیے اپنی ہستی کا بدل بن گیا۔ وہ رات کے سناٹے میں اپنے گھر سے نکلی۔ راستہ سے ناواقفیت، مقامی زبان سے اجنبیت، کسی ڈاکٹر کا نام یا پتہ معلوم نہ ہونا کوئی بھی چیز اس کے لیے رکاوٹ نہ بنی۔ وہ اپنی بیتابی کی رہنمائی میں چلتی رہی۔ یہاں تک کہ بے شمار مرحلوں سے گزرنے کے بعد بالآخر وہ ایک پاکستانی ڈاکٹر کے گھر پہنچ گئی۔ پاکستانی ڈاکٹر اس کی زبان (اردو) جانتا تھا۔ وہ فوراً اس کے ساتھ آیا۔ دیکھنے کے بعد اس نے سمجھ لیا کہ یہ اپنڈکس کا کیس ہے اور اس کا فوراً آپریشن ہونا چاہئے، چنانچہ اسی وقت وہ اس کو اپنی گاڑی میں بٹھاکر اسپتال لے گیا۔ وہاں اس کا آپریشن ہوا اور چند دن کے بعد وہ اچھا ہو کر اپنے گھر واپس آگیا۔ اس قسم کا واقعہ ہر آدمی کی زندگی میں پیش آتا ہے۔ ہر آدمی ایسی صورت حال سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں پہلے سے اس کے پاس کوئی نقشہ عمل نہیں ہوتا۔ مگر وہ پوری طرح اس کا مقابلہ کرتا ہے اور بالآخر کامیاب ہو جاتا ہے۔ تاہم اس قسم کے قصے کے ساتھ ہمیشہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے ذاتی معاملات میں پیش آتے ہیں۔ اگر تعلق اور دلچسپی کا یہی درجہ دن کے ساتھ پیدا ہو جائے تو دین کے معاملات بھی اسی طرح حل ہونے لگیں جس طرح لوگ اپنے ذاتی معاملات روزانہ حل کر رہے ہیں۔ پھر لوگوں کے لئے نہ دینی تقاضوں کو جاننا مشکل رہے اور نہ دین کے لئے قربانی دینا۔ وہ اپنے پروگرام کو اسی طرح پالیں جس طرح مذکورہ خاتون نے اپنے ڈاکٹر کو پالیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page