Al-Risala · September 1982 · page 42

مردانِ کار کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۲

ہم سے اکثر کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس نقشہ کار کیا ہے۔ آہ ، لوگوں کو کس طرح بتایا جائے کہ نقشہ کار کی نہیں بلکہ مردان کار کی ضرورت ہے۔ کوئی واقعہ خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی، اس کو برپا کرنے والے ہمیشہ انسان ہوتے ہیں۔ نہ کہ کوئی پروگرام یا نقشہ کار۔ اجتماعی زندگی میں انقلاب ہمیشہ وہ لوگ لاتے ہیں جو اپنی ذات میں پروگرام ہوں نہ کہ وہ لوگ جنہیں کوئی لگا بندھا ڈھرا دے دیا جائے اور اس پر وہ دوڑتے رہیں۔ شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کا واقعہ ہے۔ ایک بار انھوں نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد انھوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے۔ وہ ہاتھ اٹھائے خاموش دعا کرتے رہے۔ اس وقت اورنگ زیب کے ان کے وزیر سعد اللہ خاں کھڑے ہوئے تھے۔ اورنگ زیب جب دعا سے فارغ ہوئے تو سعد اللہ خاں نے کہا: عالی جاہ، آپ کی سلطنت کا پرچم کشمیر سے لے کر راس کماری تک لہرا رہا ہے، کیا اس کے بعد بھی کوئی ارمان ہے جو آپ کے دل میں باقی رہ گیا ہے۔ اورنگ زیب یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے اور اس کے بعد تاثر کے ساتھ کہا: سعد اللہ، مردے خواہم (سعد اللہ، میں ایک مرد چاہتا ہوں) اورنگ زیب کے پاس وہ چیز مکمل طور پر موجود تھی جس کو نقشہ کار کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے پاس حکومت اور وسائل بھی پوری طرح موجود تھے۔ اس کے باوجود وہ مغل سلطنت کو مستحکم بنانے میں اس لئے ناکام ہو گیا کہ اس کے پاس مردان کار نہ تھے۔ اگر اورنگ زیب کے پاس سچے مردان کار کی ٹیم موجود ہوتی تو اورنگ زیب کے بعد آنے والی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جیسا کہ اب ہمیں نظر آتی ہے۔

اسلام کے مشن کو آج انسانوں کی بھیڑ میں انسان کی تلاش ہے۔ خدا کے نام پر بولنے والوں کے درمیان اس کو اس انسان کی تلاش ہے جس کو خدا کے خوف نے چپ کر رکھا ہو، دنیا کے پیچھے پیچھے دوڑنے والوں کے درمیان وہ اس انسان کی راہ دیکھ رہا ہے جو آخرت کی خاطر کھڑا ہو گیا ہو۔ خدا کے نام پر خوشیاں منانے والوں کے درمیان وہ اس انسان کو ڈھونڈھ رہا ہے جس کو خدا کی یاد نے رونے پر مجبور کر دیا ہو۔ اپنی انا کا جھنڈا اٹھانے والوں کے درمیان اس کو اس انسان کی تلاش ہے جس نے خدا کو اس طرح پایا ہو کہ اس کے پاس ایک بے انا روح کے سوا اور کچھ باقی نہ رہ گیا ہو۔ دین کے نام پر لڑنے والوں کے درمیان وہ اس انسان کو تلاش کر رہا ہے جس نے دین کی خاطر لڑائی بھڑائی چھوڑ دی ہو۔ حاسبواا اغیارکم کا جھنڈا اٹھانے والی فوج کے درمیان وہ ان لوگوں کا انتظار کر رہا ہے جو حاسبو انفسکم کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہوں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آج اسلام کو مطلوب ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعہ اسلام دوبارہ فکری غلبہ کا مقام حاصل کرے گا۔ آج اسلام کو ایسے انسان درکار ہیں جو اپنے کو اس حد تک خالص کریں کہ وہ ظواہر سے گزر کر حقیقت کو دیکھنے لگیں۔ جو اس صبر کے حامل ہوں کہ غیر متعلق مسائل سے اپنا دامن بچاکر اصل نشانہ پر اپنی ساری توجہ مرکوز

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page