Al-Risala · September 1982 · page 43

مردانِ کار کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳

رکھیں جو آخرت کے مقابلہ میں دنیا کو اتنا ہیچ سمجھیں کہ دنیا کی ہر قربانی دینا ان کے لئے آسان ہو جائے۔ یہ اتنے زیادہ حقیقت پسند ہوں کہ اپنے مقابلہ میں دوسروں کی خوبی دیکھ سکیں اور اپنی سیٹ پر دوسرے کو بٹھا سکیں۔ جو حقائق کو اس طرح دیکھنے لگیں کہ کوئی لفظی شوشہ انہیں اس سے بد کا نہ والا ثابت نہ ہو۔ جو منفی جذبات سے اس قدر خالی ہوں کہ کوئی ذاتی رنجش انہیں منحرف نہ کر سکے اور کسی کی ترقی انہیں حسد میں مبتلا نہ کرے۔ جو دوسرے کو اپنے مقام پر رکھ کر دیکھیں اور اپنے کو دوسرے کے مقام پر۔ جو ظواہر سے زیادہ حقیقت کے دلدادہ ہوں۔ اور حال سے زیادہ مستقبل پر نظر رکھتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ وہ دنیا کے بجائے آخرت میں جیتے ہوں اور اپنی بڑائی کے بجائے خدا کی بڑائی میں گم ہو چکے ہوں۔ ایسے ہی لوگوں نے دورِ اول میں اسلام کو غالب فکر کا مقام عطا کیا تھا اور ایسے ہی لوگ دورِ ثانی میں بھی اسلام کو غالب فکر کا مقام عطا کریں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ پروگرام کا سوال اصلاً افراد تیار کرنے کا سوال ہے۔ افراد کسی تربیتی نظام میں نہیں ڈھلتے اور نہ کسی قسم کے خارجی ہنگاموں کے درمیان بنتے ہیں۔ افراد تیار کرنے کی صورت تو صرف یہ ہے کہ دین قیم کی بنیاد پر ایک ایسی بے آمیز تحریک اٹھے جو فطرت انسانی کو مس کرنے والی ہو۔ جو آدمی کے باطن میں ضرب لگا کر اس کے اندر سوئے ہوئے ربانی انسان کو جگا دے، جو انسان کے فکر میں خدا کا رنگ اس طرح گھولے کہ اس کی پوری ہستی خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔

ایسی تحریک حالات کے رد عمل کے طور پر نہیں اٹھتی۔ وہ فطرت کے ساز پر خدا کا ابدی نغمہ چھیڑنے کے ہم معنی ہوتی ہے۔ وہ کتاب الہی کی حکمت کو لسانِ عصر میں کھولتی ہے۔ وہ پیغمبرانہ دعوت کا زمانی اظہار ہوتی ہے۔ وہ خدا اور انسان کے درمیان ربط بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ سورج کی روشنی اور پھولوں کی مہک کی طرح خدا کے تخلیقی حسن کا نمونہ ہوتی ہے۔ کسی معاشرہ میں ایسی تحریک کا اٹھنا اس بات کی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ وہاں وہ ربانی انسان بن کر اٹھیں جو اپنی ذات میں پرو گرام ہوں۔ تاہم پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی دعوت اٹھنے کے بعد بھی عملاً صرف وہی لوگ اس سے فیض یاب ہوتے ہیں جو پہلے سے اپنے اندر زرخیزی کا مادہ رکھتے ہوں۔ بنجر زمین بارش سے پہلے بھی بنجر رہتی ہے اور بارش کے بعد بھی۔ بنجر (والبلد الطيب يخرج نباته باذن ربه وَٱلَّذِي خَبُثَ لا يخرج الا نكدا، الاعراف ۵۸)

اسلام کی نئی تاریخ شروع کرنے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ انسانوں کی ایسی جماعت ہے جس کی فطری صلاحیتیں زندہ ہوں۔ تاکہ اس کو جب اسلام کی دعوت فطرت کا مخاطب بنایا جائے تو وہ اس کو صحیح طور پر قبول کر سکے۔ جب اس کے اندر اسلام کا بیج ڈالا جائے تو اس کی کھیتی اس طرح لہلہا اٹھے جس طرح زر خیز زمین میں دانہ ڈالنے کے بعد اس کی فصل لہلہا اٹھتی ہے۔ اسلام کی دعوت اپنی قبولیت کے لئے آج ایسے کسی گروہ کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1982 All issues

Printed page