آدمی بدل جاتا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۳
لَّنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ میں اچھی زندگی عطا کریں گے اور آخرت میں يَعْمَلُونَ (النحل (۹۷) ان کے اچھے کاموں کے بدلے ان کا اجر عطا کریں گے اس آیت میں حیات طیبہ سے کیا مراد ہے ، اس کی وضاحت آیت کے اگلے ٹکڑے (بأحسن ما كانوا يعملون) سے ہو رہی ہے۔ اس سے مراد حسن عمل کی زندگی ہے۔ صحابہ اور تابعین عام طور پر اس کا یہی مفہوم لیتے تھے جس کی ترجمانی ضحاک کے اس قول سے ہوتی ہے کہ اس سے مراد دنیا میں رزق حلال پر قانع رہنا اور خدا کی عبادت کرنا ہے (ھی الرزق الحلال والعبادة فی الدنیا، تفسیر ابن کثیر)
اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں لگنا اپنے آپ کو اللہ کی نصرت کا مستحق بنانا ہے۔ جب کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس کو خدا کا خصوصی فیضان ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ عبادت کے وقت اس کو قربتِ خداوندی کا تجربہ ہونے لگتا ہے ۔ زندگی کے مشاغل میں پھنسنے کے باوجود وہ خدا کی یاد سے غافل نہیں ہونے پاتا۔ دنیا کی چیزوں میں اس کو عبرت اور نصیحت کی غذا ملتی ہے ۔ معاملات اور مسائل میں اس کو خدائی طریقہ اختیار کرنے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ دوستی ہو یا دشمنی ہر حال میں اس کے اندر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ وہ حق پر قائم رہے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں اس صراطِ مستقیم پر چلنے لگتا ہے جو خدا کو پسند ہے۔
یہ حیات طیبہ اپنی فکری اور عملی تفصیلات میں کیسی ہوتی ہے اس کو قرآن میں بہت واضح طور پر بتا دیا گیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں قرآن کی ان آیتوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن سے اس حیاتِ طیبہ کے مختلف بنیادی پہلو قرآن کے مخصوص اسلوب میں سامنے آتے ہیں۔ اس طرح یہ اقتباسات گویا حیاتِ طیبہ کا تعارف بھی ہیں اور اس کا مستند نمونہ بھی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کتابوں کو ایک مفید دعوتی اور تعلیمی مجموعہ بنائے۔ وحيد الدين ٢٣ مئی ۱۹۸۲
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues