حج کی دعوتی اہمیت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۱
حج کی دعوتی اہمیت
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بیت المقدس پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز تھا۔ خاتم النبیین کے بعد بیت اللہ الحرام پیغمبرانہ ہدایت کا مرکز ہے (البقرہ ۱۴۴) حج ایک اعتبار سے دنیا بھر کے پیروان اسلام کا سالانہ دعوتی اجتماع ہے۔ وہ خاص دنوں میں حرم کے گرد جمع ہوتے ہیں تاکہ اس کی مقدس فضاؤں میں خدا سے اپنا تعلق استوار کریں۔ اپنئے باہمی اتحاد کو مضبوط کریں اور داعیِ اعظم حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کے مختلف مراحل کو علامتی طور پر دہرا کر اس بات کا عزم کریں کہ وہ ہر حال میں خدا کے دین کے داعی بنے رہیں گے۔
حج کی تاریخ
اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو امام ہدایت بنایا (انی جاعلک للناس اماماً) یعنی آپ کو اس مستقل کام کے لئے چنا کہ آپ کے ذریعہ نبوت کا علم لوگوں تک برابر پہنچتا رہے۔ ابتدائی دو ہزار سال تک اس خدائی فیصلہ کا ظہور آپ کے صاحبزادہ اسحاق کی شاخ میں ہوا۔ حضرت اسحاق سے لے کر حضرت مسیح تک اس نسل میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے جنھوں نے فلسطین اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دعوتِ حق کا کام مسلسل انجام دیا۔ حضرت مسیح کے بعد یہ دینی امامت آپ کے دوسرے صاحبزادہ اسماعیل کی نسل میں منتقل ہوگئی۔ ان کی اولاد میں آخری نبی پیدا ہوئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر غلبہ کی نسبت دی تاکہ آپ کے ذریعہ کتاب الہی کی حفاظت کا یقینی انتظام ہوسکے اور دین کے مٹنے کا اندیشہ نہ رہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اظہارِ دین (لیظهرہ علی الدین کلہ) کہا گیا ہے۔ عام پیغمبروں سے اصلاً صرف تبلیغ دین مطلوب تھی اور پیغمبر آخرالزماں سے تبلیغ دین کے ساتھ اظہار دین بھی۔ اس مقصد کے لئے انسانوں کی ایک معادن جماعت درکار تھی جو تمام انسانی اوصاف سے متصف ہو۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اظہار دین کے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچائے۔ اسی جماعت کی تیاری کے لئے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے لڑکے اسماعیل کو قدیم مکہ کے غیر آباد اور خشک علاقے میں لاکر بسا دیا، تاکہ تمدن سے دور فطرت کے سادہ ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ ایک ایسی قوم پیدا ہو جس کے اندر تمام اعلی انسانی صلاحیتیں محفوظ ہوں۔ جو نے آمیز ڈھنگ سے سوچے ۔ جس کے قول فعل میں تضاد نہ ہو۔ جو ایک نظری حق کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا سکے۔ جس کے اندر پہاڑوں کی صلابت، صحرا کی وسعت اور آسمان کی بلندی ہو۔ اس طرح جب صحرائی ماحول میں پرورش پا کر ایک خیر امت وجود میں آگئی (آل عمران (۱۱۰) تو عین وقت پر اس کے اندر وہ نبی پیدا کر دئے گئے جس کے لئے حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے وقت دعا
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues