حج کی تاریخ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۲
کی تھی (البقرہ ۱۲۹)
حضرت ابراہیمی کی بیوی سارہ کے بطن سے خدا کو ایک پیغمبر پیدا کرنا تھا۔ یہ پیغمبر حضرت ابراہیم ہی کی زندگی میں پیدا ہو گیا اور اس کا نام اسحاق رکھا گیا۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم نے مکہ میں دعا کی کہ میرے لڑکے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کرے، تو اس دعا کی تکمیل میں دو ہزار سال سے زیادہ مدت لگ گئی۔ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ دونوں کے تاریخی کردار کا فرق تھا۔ پیغمبر آخر الزماں کو اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لئے ایک زندہ قوم درکار تھی۔ اس طرح کی قوم اسباب کے پردہ میں بننے کے لئے دو ہزار سال سے زیادہ کی مدت لگ گئی۔ چنانچہ جب یہ قوم تیار ہو گئی تو آپ خدائی منصوبہ کے مطابق پیدا کر دئے گئے تاہم یہ بھی ضروری تھا کہ تیاری کے اس طویل وقفہ کے دوران پیغمبرانہ دعوت کے تسلسل کو باقی رکھا جائے۔ اس لئے دوسرا انتظام یہ کیا گیا کہ حضرت ابراہیم کی نسل کی اسرائیلی شاخ میں انبیاء کی پیدائش کا سلسلہ قائم کر دیا گیا ۔ اور ایک کے بعد ایک پیغمبر آکر لوگوں کو خدا پرستی کا پیغام دیتے رہے ۔ تا آنکہ نبی آخر الزماں کے ظہور کا وقت آجانے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔ اس منصوبہ کے مطابق حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے ۔ ایک طرف آپ نے فلسطین (حبرون) میں اپنی بیوی سارہ کو بسایا جن سے اسحاق پیدا ہوئے۔ دوسری طرف آپ نے عرب (مکہ) میں اپنی دوسری بیوی ہاجرہ اور ان کے لڑکے اسماعیل کو رکھا اور یہاں کعبہ کی تعمیر کی۔ گویا حضرت ابراہیم کے ذریعہ ہدایت عالم کی جو منصوبہ بندی کی گئی اس کے ابتدائی جز کا مرکز فلسطین تھا اور اس کے آخری جز کا مرکز حجاز ۔ حضرت ابراہیم کے بعد اولاً فلسطین ہدایت الہی کا مرکز بنا۔ اسی علاقہ میں اس زمانہ کے تمام انبیاء پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت یحییٰ ، حضرت عیسیٰ وغیرہ۔ حضرت ابراہیم کے پوتے حضرت یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ انھیں کی نسبت سے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد کو جب بنی اسرائیل پر زوال آگیا اور پیغمبروں کی مسلسل فہمائش کے باوجود انھوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو خدا نے ہدایت آسمانی کے حامل ہونے کی حیثیت سے انھیں معزول کر دیا اور یہ مقدس منصب ابراہیم نسل کی دوسری شاخ بنو اسماعیل کو دے دیا۔ یہ واقعہ عین اس وقت ہوا جب کہ دو ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں ان کے اندر ایک ایسی زندہ قوم تیار ہو چکی تھی جو خدا کے دین کی حامل بن سکے۔ اس تبدیلی کی ایک ظاہری نشانی کے طور پر قبلہ عبادت بدل دیا گیا ۔ حضرت ابراہیم کے بعد تمام انبیاء بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے ۔ اب قدیم قبلہ کو منسوخ کر کے کعبہ کو قبلہ عبادت کی حیثیت دے دی گئی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues