حج ایک دعوتی ادارہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۸۲، صفحہ ۴۳
حج ایک دعوتی ادارہ
حج ابراهیمی تاریخ کا اعادہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دعوت حق کی جو عالمی منصوبہ بندی کی گئی، اسی کے مختلف مراحل کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح خدا سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی ربانی مشن میں لگائے گا جس میں حضرت ابراہیم نے اپنے آپ کو لگایا، وہ ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام کو اسی طرح جاری رکھے گا جس طرح خدا کے پاک پیغمبر نے اس کو انجام دیا۔
خدا کے دعوتی منصوبے کی تکمیل کے لئے حضرت ابراہیم اپنے وطن سے نکلے، اسی طرح حاجی بھی اپنے وطن سے نکل کر زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ وہ دین کی خاطر بے وطن ہونے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے بالکل سادۀ اور معمولی زندگی پر قناعت کی اسی طرح حاجی احرام باندھ کر یہ عزم کرتا ہے کہ وہ صرف ناگزیر ضرورت پر اکتفا کرکے اپنی توجہ کو اصل مقصد کی طرف لگائے رہے گا۔ انھوں نے کعبہ کے گرد طواف کرکے خدا کے ساتھ اپنی وفاداری کو استوار کیا اسی طرح حاجی بھی کعبہ کا طواف کرکے خدا کا وفا دار ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ دینی تقاضوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خاندان پر یہ حالت گزری کہ پانی کی تلاش میں وہ صفا و مروہ کے درمیان دوڑے اسی طرح حاجی دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کرکے ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی خاطر وہ اس آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے خواہ اس کے گھر والوں پر وہ کیفیت گزر جائے۔ جو ہاجرہ اور اسماعیل پر گزری ۔ حضرت ابراہیم کو شیطان نے خدا کے کام سے ہٹانے کی کوشش کی تو انھوں نے اس کے اوپر کنکریاں پھینکیں اسی طرح حاجی علامتی شیطان پر رمی کرکے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بھی شیطان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا اگر اس نے اس کو ورغلایا۔ حضرت ابراہیم کو خدا کی خاطر بیٹے کی جان تک پیش کرنی پڑی اسی طرح حاجی جانور کو قربان کرکے یہ اعلان کرتا ہے کہ دین کی خاطر وہ قربانی کی حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔ حضرت ابراہیم کا دعوتی مشن آخرت سے آگاہ کرنے کا مشن تھا، چنانچہ حاجی میدان عرفات میں جمع ہوکر میدان حشر کو یاد کرتا ہے تاکہ اس سب سے بڑی حقیقت کی یاد کو وہ اپنے ذہن کا جزو بنائے اور اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرے۔ حضرت ابراہیم کو جب جب ان کے رب نے پکارا وہ فوراً حاضر ہوگئے اسی طرح حاجی اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار کہتا ہے : لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملک لا شريك لك (میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لئے ہے اور اقتدار میں تیرا کوئی شریک نہیں) اس طرح حاجی اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی پکار پر ہر وقت حاضر ہونے کے لئے تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ دعوت اسلامی کا مرکز ہے اور حج اسلام کے داعیوں کا عالمی اجتماع۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1982 All issues