Al-Risala · November 1982 · page 17

حضرت محمد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۷

عورتیں بھی فوج کے ساتھ ہو لیں۔ یہ فوج مدینے کی طرف روانہ ہوئی۔ حضرت صاحب نہیں چاہتے تھے کہ مقابلہ کیا جائے۔ مگر اور مسلمانوں کے زور دینے پر لڑائی کے لئے تیار ہو گئے۔ ان کے پاس صرف سات سو جوان تھے۔ خوب گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ دشمنوں کے بہت سے آدمی کام آئے۔ خود آنحضرت زخمی ہوئے۔ اس خبر سے مسلمان مایوس ہو گئے اور ان کی فوج میں کھل بلی مچ گئی۔ اس لڑائی کے متعلق تحقیق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ کس کو شکست ہوئی۔ بہر حال طرفین کا سخت نقصان ہوا۔ اس لڑائی میں حضرت صاحب نے اپنے دشمنوں کے لئے دعا مانگی کہ اے خدا انہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔

اس جنگ کے بعد مخالفوں کے حوصلے بڑھا گئے اور انھوں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ اب ہم اسلام کو بالکل نیست و نابود کر کے چھوڑیں گے۔ کئی قبیلوں کے لوگوں نے مسلمان بننے کا بہانہ کر کے مسلمانوں کے بہت سے واعظوں کو قتل کر ڈالا۔ یہودی لوگ بھی اسلام کے دشمنوں کے ساتھ مل گئے۔ چنانچہ چوبیس ہزار فوج تیار ہو گئی۔ مگر خدا کی غیبی طاقت مسلمانوں کی امداد کر رہی تھی اور ان کا حوصلہ بڑھ رہی تھی۔ چنانچہ انھوں نے مدینے کے اس طرف جہاں پہاڑ نہ تھے، ایک خندق کھودنے کا ارادہ کیا۔ جس میں خود حضرت صاحب نے ہاتھ میں پھاوڑہ لے کر مزدوروں کا کام کیا۔ خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ ایک رات سخت آندھی چلی اور موسلا دھار مینہ برسا۔ اور دشمنوں کے سب خیمے اکھڑ گئے۔ ان پر غضب کا خوف طاری ہو گیا۔ وہ سمجھے کہ خدا کی طرف سے قیامت نازل ہوئی ہے۔ ان میں سخت ابتری پھیل گئی اور سب لوگ اپنا بدھنا بور یا باندھ کر چلتے بنے۔ اس طرح پر میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ در حقیقت اسے غیبی امداد ہی سمجھنا چاہئے۔ ورنہ اگر لڑائی ہوتی تو ایک بھی مسلمان نہ بچ سکتا تھا۔

یہودیوں کی شرارتیں برابر جاری تھیں۔ حضرت صاحب تو ہر چند چاہتے تھے کہ انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح کر کے چین سے مدینے میں رہیں۔ لیکن خندق کی لڑائی میں انھوں نے سخت غداری کا ثبوت دیا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی تقریر اور نظموں میں مسلمانوں اور خصوصاً حضرت صاحب کی ہجو کرتے رہتے تھے ۔ مسلمان عورتوں کو وہ آتے جاتے بہت تنگ کرتے تھے۔ ایک دفعہ زینب نامی یہودی عورت نے حضرت صاحب اور بہت سے مسلمانوں کو دعوت دی اور کھانے میں زہر ملا دیا۔ حضرت صاحب کو شبہ ہو گیا۔ اور خدا کی مہربانی سے سب کی جان بچ گئی۔ اس سازش میں بہت سے بڑے بڑے یہودی شامل تھے۔ اور کوئی ہوتا تو سب یہودیوں کو تلوار کے گھاٹ اتار دیتا۔ مگر آنحضرت نے چند سرغنوں کو ہی سزا دینا کافی سمجھا۔

اب سب کو یقین ہو گیا تھا کہ قریش اب خاموش ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ کیوں کہ مسلمانوں کو نیست و نابود کرنا خالہ جی کا گھر نہ تھا۔ حضرت صاحب کا بھی یہ خیال تھا کہ اب قریش دل چھوڑ بیٹھے ہیں۔ اس لئے انھوں نے حج کے ارادہ سے مکے جانے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ تیرہ چودہ سو مسلمانوں کو ساتھ لے کر کعبے کی زیارت کو روانہ ہوئے۔ اپنے ساتھیوں کو پہلے ہی حکم دے دیا تھا کہ کوئی شخص ہتھیار یا لڑائی کا سامان اپنے ساتھ نہ لے جائے ۔ اور صرف ایک تلوار میان میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page