Al-Risala · November 1982 · page 18

حضرت محمد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۸

اپنی حفاظت کے لئے رکھے۔ جب وہ مکے کے قریب پہنچے تو قریش کو شبہ ہوا مسلمان کے پر حملہ کرنے آئے ہیں۔ جب قریش کا قاصد ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے کہا کہ تم محض حج کی نیت سے یہاں آئے ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ قریش کے ساتھ صلح ہو جائے۔ چنانچہ کچھ قیل و قال کے بعد صلح کی چند شرطیں طے ہوگئیں۔ اور مسلمان بغیر حج کئے واپس آگئے ۔ بعض مسلمانوں نے اس کو بہت برا سمجھا۔ حضرت صاحب نے اس موقع پر صلح کرنا ہی مناسب سمجھا تھا کہ اگر لڑائی ہوتی تو ایک مسلمان بھی زندہ واپس نہ آتا۔ کیوں کہ وہ بالکل جنگ کے لئے تیار تھے۔ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کہلاتا ہے۔ اس صلح کے بعد مسلمانوں کی طاقت دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگی۔ حضرت صاحب نے مختلف مقامات پر اپنے واعظ بھیجے ۔ اور مختلف سلطنتوں کے حکمرانوں کو دعوت اسلام دی۔ کئی سلطنتوں نے اسلام کی بہت قدر کی اور مسلمانوں کو وعظ کرنے کی کھلی اجازت مل گئی۔

قریش کے لوگ صلح تو ضرور کر چکے تھے۔ مگر اسلام کی ترقی انھیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور وہ اسی تاک میں رہتے تھے کہ جب موقع ملے اسلام کا خاتمہ کردیں۔ چنانچہ وہ برابر چھیڑ چھاڑ کرتے رہے ایک دفعہ انھوں نے مسلمانوں کے حلیف بنو خزاعہ کے آدمی کو عین کعبے میں قتل کر ڈالا۔ آنحضرتؐ نے قاصد بھیجا کہ کیا آپ جدید یہ کے صلح نامے کو برقرار رکھنا نہیں چاہتے۔ قریش نے ٹال مٹول کرنا چاہا۔ اور آخر کہہ دیا کہ وہ صلح نامہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اب آنحضرتؐ نے فیصلہ کیا کہ روز روز کی جھک جھک ٹھیک نہیں ہے۔ اب قریش کو ایسا سبق سکھانا چاہئے کہ آئندہ سر اٹھانے کی جرات نہ کریں۔ چنانچہ انھوں نے زور شور سے مکے پر چڑھائی کی تیاریاں شروع کردیں۔ اور دس ہزار جرار فوج لے کر سہہ ہجری میں مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ قریش پر مسلمانوں کا خوف طاری ہو جائے۔ اور وہ بلا جنگ کئے اطاعت قبول کر لیں۔ چنانچہ مکے سے چند میل کے فاصلے پر ڈیرے ڈال دئے۔ اور سب نے اپنے اپنے خیمہ کے سامنے آگ جلادی۔ قریش یہ دیکھ کر کہ اس قدر اسلامی لشکر مکے پر چڑھ آیا ہے ڈر گئے۔ ابوسفیان جو اسلام کا جانی دشمن تھا، گو وہ دل میں اسلام کی روحانی قوت کو محسوس کرتا تھا، قاصد بن کر گیا۔ لیکن حضرت صاحب کے نیک سلوک سے متاثر ہو کر اس نے اپنے قصوروں کی معافی مانگ لی۔ حضرت صاحب نے دریا دلی سے اسے معاف کر دیا۔ اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس نے واپس جا کر اعلان کر دیا کہ اب اسلام کا مقابلہ کرنا بے سود ہے جو شخص امان چاہتا ہے یا تو میرے گھر میں چلا آئے یا اپنا دروازہ بند کر لے کسی کو ایذا نہیں پہنچے گی۔ اب اسلامی لشکر مختلف طرفوں سے مکے میں داخل ہوا۔ حضرت صاحب نے فوج کے افسروں کو سخت حکم دے دیا کہ مکے والوں پر کسی قسم کی سختی نہ کی جائے۔ آنحضرتؐ نے اپنے رفیقوں کے ساتھ کعبہ میں جا کر نماز پڑھی۔ شہر کے لوگ تھر تھر کانپ رہے تھے کہ نہ جانے اب کیا ہو گا۔ شاید آنحضرتؐ قتل عام کا ہی حکم دے دیں۔ اس لئے بہت سے لوگ شہر سے بھاگ جانے کا انتظام کر رہے تھے۔ جب آپ کو معلوم ہوا کہ لوگ اس قدر خوف زدہ ہو رہے ہیں تو آپ نے اعلان کر دیا کوئی مسلمان تلوار نہ چلائے۔ اور کوئی شخص شہر چھوڑ کر نہ جائے۔ آج لڑائی اور انتقام کا دن نہیں ہے بلکہ آج شفقت اور رحمت کا دن ہے۔ میں تمھارا دشمن ہو کر نہیں آیا ہوں۔ اور نہ ہم سے کسی قسم کا بدلہ لینا چاہتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page