Al-Risala · November 1982 · page 19

حضرت محمد

الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۱۹

میں تم سے وہی سلوک کروں گا۔ جو یوسفؑ نے مصر میں اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔ میں تم کو جھڑکی تک بھی نہ دوں گا“ یہ اعلان سن کر لوگوں کی جان میں جان آئی۔ اور انھوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب وہ واقعات پیش آئے جن کی مثال شاید ہی دنیا کی تاریخ میں کہیں ملتی ہو۔ ابو سفیان کو جو پہلے مسلمانوں کے خون کا پیاسا تھا، آنحضرتؐ نے مکے میں داخل ہونے سے پہلے ہی معاف کر دیا تھا۔ اس کی بیوی ہندہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کے خاوند نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ غصے میں آپے سے باہر ہو گئی۔ اور اپنے خاوند کی داڑھی پکڑ کر اسے جوتیوں سے خوب پیٹا۔ اور اس کے منہ پر تھوکا۔ وہ بہت ڈری ہوئی تھی۔ کہ نہ جانے مجھے کیا سزا ملے۔ کیوں کہ اس نے لڑائی میں آنحضرتؐ کے چچا حمزہؓ کی لاش کا پیٹ چاک کر کے اور کلیجہ نکال کر دانتوں سے چبایا تھا جب وہ آنحضرتؐ کے سامنے آئی تو شرم کے مارے منھ پر نقاب ڈال کر آئی۔ آنحضرتؐ نے کہا۔ اے ہندہ میں خوش ہوں کہ تو اپنے اعمال پر پشیمان ہے۔ تو صرف ایک خدا کی پرستش کیا کر۔ ہرگز جھوٹ نہ بولا کر اور ہمیشہ بدکرداری سے پر ہیز کیا کر۔ یہ کہہ کر اسے بالکل معاف کر دیا۔ وہ آنحضرتؐ پر ایمان لے آئی۔

عکرمہ کو جس نے مکے میں داخل ہوتے ہی دو بے گناہ مسلمانوں کو تیر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس کی بیوی کی سفارش پر معاف کر دیا۔ اسی طرح ایک شخص ہبار نامی کو جس نے آنحضرتؐ کی لڑکی زینب کو جب کہ وہ حاملہ تھیں، پتھر مار کر ہلاک کر دیا تھا معاف کر دیا۔

طائف کے لوگوں نے جب آنحضرتؐ وہاں گئے تھے تو انھیں پتھر مار مار کر گھائل کر دیا تھا پھر سر اٹھایا۔ ان پر چڑھائی کر کے ان کے قلعے فتح کر لئے۔ اور چھ ہزار فوجیوں کو قید کر لیا۔ لیکن وہاں کے لوگوں کی طرف سے یہ یقین دلانے پر کہ وہ ہمیشہ وفادار رہیں گے سب قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ اور کسی کو بھی مسلمان بننے پر مجبور نہ کیا۔ حالاں کہ اگر وہ چاہتے تو سب کو مسلمان بنا سکتے تھے۔

اب اسلام تمام عرب میں پھیل چکا تھا۔ اور عربوں نے آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا تھا۔ آپ نے تمام صنعتوں کے انتظام کی طرف توجہ کی۔ محصول اور لگان کی وصولی کے قواعد بنائے۔ فوجوں کی باقاعدہ ترتیب اور تربیت کا انتظام کیا۔ سرحد کی حفاظت کے لئے چھاؤنیاں بنائیں۔ ہر ایک کے لئے آمدنی کا خاص حصہ زکوٰۃ میں دینا ضروری قرار دیا۔ مختلف قبیلوں کی بغاوتوں کو رفع کرنے کا خاص انتظام کیا۔

آس پاس کی عیسائی حکومتوں کو اسلام کی ترقی بہت ناگوار گزرتی تھی، اور وہ اکثر کچھ نہ کچھ چھیڑ چھاڑ کرتی رہتی تھیں۔ ان کی سرکوبی کا بھی خوب انتظام کیا اور تمام ارد گرد کے حاکموں کے ساتھ عہد نامے کئے تاکہ تمام ملکوں میں امن و امان قائم رہ سکے۔ اب انھوں نے نہایت دھوم دھام سے حج کی تیاریاں کیں اور اس حج کے موقع پر ایک لاکھ چالیس ہزار مسلمان شامل ہوئے۔ چند ہی سال میں اسلام کا نام عرب میں پھیل جانا اور مختلف مخالف فرقوں اور قبیلوں کا آنحضرتؐ کا پیروبن جانادراصل ایک معجزہ تھا۔ شاید ہی کسی اور پیغمبر کو اپنی زندگی میں اس قدر کامیابی نصیب ہوئی ہو اس حج کے موقع پر ہر طرف بہشتی نظارہ دکھائی دیتا تھا۔ جہاں چھوٹے بڑے امیر و غریب کی کچھ تمیز نہ تھی۔ ہر طرف

‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues

Printed page