یہود کے نقش قدم پر
الرسالہ، نومبر ۱۹۸۲، صفحہ ۶
سے شفاعت کریں تاکہ وہ ظروف جو خداوند کے گھر میں اور شاہ یہوداہ کے گھر میں اور یروشلم میں باقی ہیں بابل کو نہ جائیں ( ۲۶ : ۱۸ - ۱۴) رب الافواج اسرائیل کا خدا ان سب اسیروں سے جن کو میں نے یروشلم سے اسیر کرو اکربابل بھیجا ہے یوں فرماتا ہے ، تم گھر بناؤ اور ان میں بسو اور باغ لگاؤ اور ان کا پھل کھاؤ۔ بیویاں کرو تاکہ تم سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں ، اور اپنے بیٹوں کے لئے بیویاں لو اور اپنی بیٹیاں شوہروں کو دو تاکہ ان سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں اور تم وہاں پھلو پھولو اور کم نہ ہو۔ اور اس شہر کی خیر مناؤ جس میں میں نے تم کو اسیر کروا کر بھیجا ہے اور اس کے لئے خداوند سے دعا کرو۔ کیونکہ اس کی سلامتی میں تمھاری سلامتی ہوگی۔ کیونکہ رب الافواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جو تمھارے درمیان ہیں اور تمھارے غیب دآں تم کو گمراہ نہ کریں اور اپنے خواب بینوں کو جو تمھارے ہی کہنے سے خواب دیکھتے ہیں نہ مانو۔ کیونکہ وہ میرا نام لے کر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ میں نے ان کو نہیں بھیجا (۲۹ : ۹ - ۵) حضرت یرمیاہ کی ان باتوں کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہودغیر قوموں کی غلامی پر ہمیشہ کے لئے راضی ہو جائیں۔ ان کا مطلب صرف یہ تھا کہ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ حکومت کے خلاف تحریکیں چلا کر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تمھاری جن کمزوریوں نے غیر قوم کو تمھارے اوپر غلبہ دیا ہے ان کو ختم کئے بغیر کس طرح یہ ممکن ہے کہ تم دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن حاصل کر لو۔ اس لئے ان کا کہنا تھا کہ تم بغاوت کی مہم چلانے سے پہلے اصلاح کی مہم چلاؤ۔ چنانچہ انھوں نے "شاہ بابل کا جوا" قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہود کو یہ بشارت بھی دی کہ اگر تم خدا کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلو تو رب الافواج فرماتا ہے کہ میں اس کا جوا تری گردن پر سے توڑ دوں گا اور تیرے بندھنوں کو کھول ڈالوں گا اور بیگانے پھر تجھ سے خدمت نہ کرائیں گے۔ اس لئے اے اسرائیل گھبرانہ جا کیونکہ دیکھ میں تیری اولاد کو اسیر ی کی سرزمین سے چھڑاؤں گا اور یعقوب واپس آئے گا اور کوئی اسے نہ ڈرائے گا (۳۰ : ۹ - ۸)
مگر یہودنے اپنے نبی کا مشورہ نہیں مانا۔ وہ ان جھوٹے رہنماؤں کی باتیں سنتے رہے جو ان کو الفاظ کی جذباتی شراب پلا رہے تھے۔ جو ان کو معمولی عمل سے بڑے بڑے نتائج کی فرضی امیدیں دلا تہ تھے ۔ جو نفرت اور ٹکراؤ جیسی فتنہ انگیز باتیں کرتے تھے (یرمیاہ ۲۸ : ۱۶) اس حماقت (۲۹ : ۲۳) کا نتیجہ یہ ہوا کہ شاہ بابل بنو نضران کے اوپر غضب ناک ہوا اور ۵۸۷ ق م میں دوبارہ ان کے اوپر شدید تیر حملہ کیا۔ اس کے بعد اس نے یہودیہ کی تمام آبادیوں کو ویران کرکے رکھ دیا ۔ بے شمار یہودیوں کو قتل کیا ۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اس طرح برباد کیا کہ بابل کے الفاظ میں اس کی ایک اینٹ بھی دوسری اینٹ کے اوپر باقی نہ رہی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1982 All issues