Tazkirul Quran, Qur’an 100:1–11
The Snorting Horses (Al-‘Adiyat)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
گھوڑا ایک نہایت وفادار جانور ہے۔ وہ اپنے مالک کے لیے اپنے آپ کو آخری حد تک قربان کردیتا ہے، حتی کہ جنگ کے میدان میں بھی وہ اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ یہ گویا ایک علامتی مثال ہے جو انسان کو بتاتی ہے کہ اسے کیسا بننا چاہیے۔ انسان کو بھی اپنے رب کا اسی طرح وفادار بننا چاہیے جیسا کہ گھوڑا انسان کا وفادار ہوتا ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ۔
ایک حدیثِ رسول میں خدا کے وفادار بندوں کی مثال اس طرح بیان کی گئی ہےعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ، عَلَى آخِيَّتِهِ يَجُولُ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ (مسند احمد، حدیث نمبر 11335)۔ ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی ہے، جو اپنے کھونٹے سے بندھا رہ کر چاروں طرف گھومتا ہے، پھر اپنے کھونٹے کے پاس واپس آجاتا ہے۔ مومن سے بھی غفلت ہوتی ہے، پھر وہ ایمان کی طرف واپس آجاتا ہے۔
اس دنیا میں جانور اپنے مالک کا شکر گزار ہے مگر انسان اپنے رب کا شکر گزار نہیں ۔ یہاں جانور اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے مگر انسان اپنے رب کا حق نہیں پہچانتا۔ یہاں جانور اپنے مالک کی اطاعت میں سرگرم ہے۔ مگر انسان اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم نہیں ۔
انسان اسی جانور کی قدر کرتا ہے جو اس کا وفادار ہو۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس راز کو نہ جانے کہ خدا کے یہاں وہی انسان قابلِ قدر ٹھہرے گا جو خدا کی نظر میں اس کا وفادار ثابت ہو۔ مگر مال کی محبت اس کو اندھا بنا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت کو جاننے سے محروم رہتا ہے جس کا وہ خود اپنے قریبی حالات میں تجربہ کرچکا تھا۔
یہ صورتِ حال اسی طرح باقی رہنے والی نہیں ۔ انسان کی موت اس بات کا الارم ہے کہ وہ مکمل طور پر خدا کی پکڑمیں ہے۔موت دراصل ، حساب وکتاب کی دنیا میں داخلہ کادروازہ ہے۔ وہاں انسان کو اس خدا کی عدالت کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس سے انسان کی کوئی بھی بات چھپی ہوئی نہیں ۔