Tazkirul Quran (Urdu) · The Earthquake (Al-Zalzalah)

Tazkirul Quran, Qur’an 99:1–8

The Earthquake (Al-Zalzalah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قیامت کا زلزلہ مدتِ امتحان کے ختم ہونے کا اعلان ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب لوگوں سے وہ آزادی چھن گئی جو امتحان کی مصلحت کی بنا پر انہیں حاصل تھی۔ اب وہ وقت آگیا جب لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ آج خداکی دنیا بظاہر خاموش ہے۔ مگر جب حالات بدلیں گے تو یہاں کی ہر چیز بولنے لگے گی۔

دنیا میں آدمی ظالمانہ رویہ اختیار کرتا ہے ۔ وہ سچائی کے پیغام کو ٹھکرا تا ہے ۔ وہ حق دار کو اس کا حق ادا کرنے سے انکار کرتا ہے ۔ وہ جس پر قابو پا جاتا ہے اس کے اوپر خداوند بننے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ اپنی ذات کو صداقت کا معیار بنالیتا ہے۔ وہ دنیا میں اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ یہاں آزاد ہے کہ جو چاہے کرے اور جس طرح چاہے اپنے اختیارات کو استعمال کرے۔ مزید یہ کہ ہرآدمی کے پاس الفاظ کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جس سے وہ اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو چھپا سکے ۔ ہر آدمی کے پاس خوبصورت تاویلات ہیں جن سے وہ اپنے آپ کوحق بجانب ثابت کرسکے۔

یہ سب کچھ یہاں بہت بڑے پیمانے پر ہورہا ہے مگر ساری کائنات خاموش کھڑی ہوئی اس کو دیکھ رہی ہے ۔ درختوں کی پتیاں، سورج،چاند اور زمین و آسمان، وغیرہ ایک غیر جانب دار تماشائی کی طرح کھڑے رہتے ہیں ، وہ حق کی حمایت میں اپنا کوئی بیان نہیں دیتے۔ دنیا میں بولنے والی زبان صرف ایک ہی نظر آتی ہے اور وہ انسان کی زبان ہے ۔ مگر انسان کا یہ حال ہے کہ وہ حق کی پامالی کو دیکھتا ہے اور اس سے بے تعلقی ظاہر کرتا ہے ۔ وہ خودغرضیوں اور مصلحتوں کے تحت بولتا ہے۔ وہ طاقت ور کی طرف داری کرتا ہے خواہ وہ باطل پرہو ا ورکمزور کو نظرانداز کرتا ہے خواہ وہ حق پر ہو ۔ ایک ایسی کائنات جہاں چڑیوں کے سریلے نغمے بلند ہوتے ہوں ۔ جہاں سورج روزانہ دنیا کو روشن کرتا ہو ، وہاں کوئی حق کی حمایت میں بولنے والا نہیں ۔ وہاں کوئی بے انصافی کا پردہ پھاڑنے والا نہیں ۔

آنے والی قیامت اس سوال کا جواب ہے ۔ قیامت کے دن کائنات کا مالک اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ اس دن حق کی حکمرانی ہوگی ۔اس دن زمین و آسمان کی تمام چیزیں بول پڑیں گی۔ حتی کہ آدمی کے اپنے اعضا بھی سچائی کی گواہی دینے لگیں گے (فصلت، 41:20)۔ موجودہ زمانہ کی ایجادات نے ثابت کیا ہے کہ بے جان چیزیں بھی ’’بولنے’’ کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ اسٹوڈیو میں کیے ہوئے عمل کو فلم اور ریکارڈ پوری طرح دہرا دیتے ہیں ۔ اسی طرح موجودہ دنیا گویا بہت بڑا خدائی اسٹوڈیو ہے۔ اس کے اندر انسان جو کچھ کرتا ہے یا جو کچھ بولتا ہے وہ سب ہر لمحہ محفوظ ہورہا ہے۔ اور جب وقت آئے گا تو ہر ایک کی کہانی کو یہ دنیا اس طرح دہرا دے گی کہ اس کی کوئی بھی بات اس سے بچی ہوئی نہ ہوگی، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی۔

قیامت کے دن عزت والا وہ ہو گا جو خدا کے نز دیک حق پر تھا اور وہ تمام لوگ ذلت کی ابدی دنیا میں دھکیل دیے جائیں گے جو خدا کے نزدیک ناحق پر چل رہے تھے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page