Tazkirul Quran, Qur’an 101:1–11
The Clatterer (Al-Qari‘ah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قیامت کا بھونچال ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے گا۔ لوگوں کے تمام استحکامات درہم برہم ہوجائیں گے۔ اس کے بعد ایک نیا عالم بنے گا جہاں سارا وزن صرف حق میں ہوگا، بقیہ تمام چیزیں اپنا وزن کھو دیں گی۔ موجودہ دنیا میں انسانوں کی پسند کا رواج ہے۔ یہاں انسانوں کی نسبت سے چیزوں کا وزن قائم ہوتا ہے۔ آخرت کی دنیا خدا کی دنیا ہے۔ وہاں خدا کی پسند کے اعتبار سے ایک چیز وزن دار ہوگی اور دوسری چیز بالکل بے وزن ہو کر رہ جائے گی۔ اگر انسان کو آخرت کا زندہ یقین ہو تو وہ ہر قسم کی منفی باتوں سے رک جائے گا۔ کیوں کہ وہ سوچے گا کہ قیامت آتے ہی اس کی منفی باتیں اتنا زیادہ بے وزن ہوجائیں گی کہ کوئی اس کو سننے والا بھی نہ ہوگا۔ حتی کہ اس کے اپنے الفاظ بھی اس کا اپنا ساتھ چھوڑ دیں گے۔
میزان کا مطلب تول (scale) ہے۔ یہ ایک تمثیل کی زبان میں ہے۔ یہ ایک کیفیاتی حقیقت (qualitative reality)کو کمیاتی زبان (quantitative term) میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی معنوی بات کو مادی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ آخرت میں اعمال کا درجہ ان کی معنوی اہمیت کے اعتبار سے ہوگا، معروف قسم کے ترازو اور باٹ سےنہیں ۔ کسی آدمی نے جو عمل کیا ہو، اس کا ایک ظاہری پہلو ہوتا ہے، مگر آخرت میں اعمال کا درجہ ان کے معنوی پہلو کے اعتبار سے ہوگا۔ مثلاً ایک شخص نے درہم و دینار دیا، اور دوسرے شخص نے نیت کے اعتبار سے بڑا کام کیا۔ آخرت میں اس عمل کا درجہ زیادہ ہوگا، جو نیت کے اعتبار سے بڑا عمل ہو۔
دنیا میں اعمال کا وزن ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے، آخرت میں اعمال کا وزن ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ جس آدمی کے عمل میں جتنا زیادہ اخلاص ہوگا اتنا ہی زیادہ وزنی قرار پائے گا۔ جو عمل اخلاص سے خالی ہو وہ آخرت میں بالکل بے وزن ہو کر رہ جائے گا، خواہ موجودہ دنیا میں ظاہر بینوں کو وہ کتنا ہی زیادہ باوزن دکھائی دے رہا ہو۔
ثابت بن حجاج کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے کہا اپنے آپ کو تول لو قبل اس کے کہ تمھیں تولا جائے ۔ اپنا حسا ب کر لو قبل اس کے کہ تمھاراحساب کیا جائے اور بڑی پیشی کے لیے اپنے کو تیار کر لو کیوں کہ کل کے حساب کے مقابلہ میں آج اپنا حساب لینا زیادہ آسان ہے( حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا،وَتَزَيَّنُوا لِلْعَرْضِ الأَكْبَرِ،وَإِنَّمَا يَخِفُّ الحِسَابُ يَوْمَ القِيَامَةِ عَلَى مَنْ حَاسَبَ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا)سنن الترمذی،حدیث نمبر2459۔
کسی آدمی کا عمل نیت کے اعتبار سے کس درجے کا عمل ہے، یہ صرف اللہ کو معلوم ہے۔ دنیا میں اس کو متعین نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ایک شخص بہت پیسہ دیتا ہے مگر دکھاوے کے لیے۔اس کے مقابلے میں دوسرا شخص کم دیتا ہے، مگر اس کی نیت خالص ہے۔دنیا میں اعمال کا وزن ظاہر کے اعتبار سے ہوتا ہے، آخرت میں اعمال کا وزن ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا۔ قرآن میں جس تول کا ذکر ہے، وہ آخرت کا تول ہے، جو کہ کیفیت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ کمیت کے اعتبار سے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ کیفیت کے اعتبار سے کسی چیز کی قدر و قیمت متعین کرنا، دنیا میں ممکن نہیں ، یہ صرف آخرت کے میزان میں ممکن ہوگا۔ دنیا میں ہم اس معاملے کو اجمالی طور پر جان سکتے ہیں ، نہ کہ متعین صورت میں ۔