Tazkirul Quran (Urdu) · Greed for More and More (Al-Takathur)

Tazkirul Quran, Qur’an 102:1–8

Greed for More and More (Al-Takathur)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

موجودہ دنیا طرح طرح کی مادی چیزوں کا ایک وسیع دستر خوان ہے ، یہ چیزیں دنیا میں امتحان کے لیے رکھی گئی ہیں ، نہ کہ آزادانہ استفادہ کے لیے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو امتحان کی نظر سے دیکھے تو وہ بقدرِضرورت ان کو حاصل کرے گا اور احتیاط اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ ان کو استعمال کرے گا۔لیکن آدمی عام طور پر ذمہ دارانہ رویہ پر قائم نہیں رہ پاتا۔ مادی چیزوں کی کشش اس کو اپنی طرف اس طرح کھینچتی ہے کہ وہ ان ہی کی طرف دوڑ پڑتا ہے مزیدیہ کہ اس کی حرص کہیں نہیں رکتی ۔و ہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے وہ اپنے پورے وجود کو دنیا کی کمائی میں مشغول کردیتا ہے۔ وہ اسی حال میں اپنے صبح وشام بسرکرتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آجاتا ہے، وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی کوموجودہ دنیا میں چھوڑ کر آخرت کی دنیا میں چلا جاتا ہے۔ اس وقت اچانک وہ اپنے آپ کو اس حال میں پاتا ہے کہ اس کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں جو زندگی کے اگلے مرحلے میں اس کے کام آسکے۔ آدمی چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کمائے، وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان اپنے پاس جمع کرے۔ وہ اسی دھن میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ جمع کرنے کی چیز تو دوسری تھی اور میں کسی اور چیز کو جمع کرنے میں مصروف رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی چیزوں کا اضافہ صرف آدمی کی مسؤ لیت کو بڑھاتا ہے۔ اور آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی کامیابی میں اضافہ کر رہا ہے۔

خالق نے اس دنیا میں انسان کو جو نعمتیں دی ہیں ، اس کے ساتھ ایک لازمی ذمہ داری وابستہ ہے۔ آخرت میں انسان سے یہ پوچھا جائے کہ تم نے زندگی میں ملی ہوئی نعمتوں پر منعم کا اعتراف کیا یا تم نے بے اعترافی کی زندگی گزاری۔اس کی وضاحت ایک حدیثِ رسول سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں ایک بار بھوک کی حالت میں تھے۔ ایک انصاری آپ کو اور چند صحابہ کو اپنے ساتھ اپنے باغ لے گئے۔ وہاں درخت سے کھجور کا خوشہ توڑ لائے اور پانی پیش کیا۔ آپ نے کھجور کھاکر پانی پیا، پھر آپ نے فرمایا یہ بھی ان نعمتوں میں سے ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ تم سے سوال کیا جائے گا (هَذَا ‌مِنَ ‌النَّعِيمِ ‌الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ) مسند البزار، حدیث نمبر 205۔

’’کھجور‘‘ کو ایسے پھل کے طورپر لیا جائے جو صرف انسانی محنت کا نتیجہ ہے تو کھانے والے نے ’’کھجور‘‘کو تخلیق خداوندی کے طور پر دریافت نہیں کیا۔ وہ اس کو انسانی محنت کے طور پر دیکھ سکا، مگر وہ اس کو خدائی صنعت کے طور پر دیکھنے سے محروم رہا۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ہے کہ جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور وہ بہت دور پڑا ہوگا صراط مستقیم سےسے (17:72)۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page