Tazkirul Quran, Qur’an 41:45–46
Revelations Well Expounded (Fussilat)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
پچھلے پیغمبروں کے ذریعہ جب خدائی سچائی منکشف کی گئی تو کچھ لوگوں نے اس کو مانا اور کچھ لوگوں نے نہیں مانا۔ یہی معاملہ اس وقت بھی پیش آیا جب کہ پیغمبر آخر الزماں کی بعثت ہوئی۔
خدائی سچائی کے ساتھ یہ اختلافی معاملہ انسان کیوں کرتا ہے۔ اس کی وجہ موجودہ امتحانی حالت ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں سچائی جب بھی ظاہر ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ایک پردہ بھی لگا رہتا ہے۔ لوگ اسی پردہ میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔ جس پردہ کو انھیں پھاڑناتھا اس کو وہ اپنے لیے شک و شبہ کا سبب بنا لیتے ہیں۔
مگر یہ شک قیامت میں کسی کے لیے عذر نہیں بن سکتا۔ کیونکہ یہ صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان حق کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں تھا۔ انسان اپنے دنیا کے مفاد کے معاملہ میں پوری طرح سنجیدہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ تمام پردوں کو پھاڑ کر اس کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ اپنے آخرت کے مفاد کے بارے میں سنجیدہ ہوجائے تو وہ شک کے تمام پردوں کو پھاڑ کر حقیقت کو اس کی بے نقاب صورت میں دیکھ لے۔