Tazkirul Quran, Qur’an 41:53–54
Revelations Well Expounded (Fussilat)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
دنیا میں جتنے لوگ بھی اٹھے ہیں سب کی کہانی حال کی کہانی ہے، کسی کی کہانی مستقبل کی کہانی نہیں۔ کیونکہ کسی کا مستقبل بھی اس کے حال کی تصدیق کرنے والا نہ بن سکا۔ ایسی دنیا میں ڈیڑھ ہزار سال پہلے یہ پیشین گوئی کی گئی کہ قرآن کے بعد ظاہر ہونے والے واقعات وحقائق قرآن کی تصدیق کرتے چلے جائیں گے۔ قرآن آئندہ آنے والے تمام زمانوں میں اپنی صداقت کو نہ صرف باقی رکھے گا بلکہ مزید واضح اور مدلل کرتا چلا جائے گا۔ قرآن ہمیشہ وقت کی کتاب رہے گا۔
یہ بات حیرت انگیز طورپر صد فی صد درست ثابت ہوئی ہے۔ علمی تحقیقات، تاریخی واقعات، زمانی انقلابات سب قرآن کے حق میں جمع ہوتے چلے گئے۔ حتی کہ آج غیر مسلم محققین بھی گواہی دے رہے ہیں کہ قرآن اپنی نادر خصوصیات کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے۔ کسی انسانی تصنیف میں ایسی ابدی خصوصیات پائی نہیں جاسکتیں(تفصیل کے لیے دیکھیے راقم الحروف کی کتاب ’’عظمتِ قرآن‘‘)۔
اس کھلی ہوئی حقیقت کے باوجود جو لوگ قرآن کی صداقت کے آگے نہ جھکیں وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ ان کی بے خوفی کی نفسیات نے ان کو غیر سنجیدہ بنا دیا ہے۔ کیوں کہ غیر سنجیدہ انسان ہی سے اس قسم کی غیر معقول روش ظاہر ہوسکتی ہے کہ وہ کھلے کھلے شواہد کو دیکھے اور اس کے باوجود اس کا اقرار نہ کرے۔