Tazkirul Quran, Qur’an 42:13
Mutual Consultation (Al-Shura)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
تمام پیغمبر ایک ہی دین لے کر آئے۔ اور وہ دينِ توحید ہے۔ مگر ان پیغمبروں کے ماننے والے بعد کو الگ الگ دینی فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ اس کی وجہ مرکز توجہ میں تبدیلی تھی۔ پیغمبروں کے اصل دین میں مرکزتوجہ تمام تر خدا تھا۔ ہر ایک کی تعلیم یہ تھی کہ صرف ایک خدا کے پرستار بنو۔ مگر ان کی امتوں نے بعد کو اپنا مرکزتوجہ تبدیل کردیا۔ وہ خدا کے بجائے غیر خدا کے پرستاربن گئے۔
قدیم عرب کے لوگ ابتداء ً حضرت ابراہیم کی امت تھے۔ مگر بعد کو اپنے کچھ بزرگوں کی عظمت ان کے ذہنوں پر اس قدر چھائی کہ انھیں کو انھوں نے اپنا مرکز توجہ بنا لیا۔ حتی کہ ان کے بت بنا کر وہ ا ن کو پوجنے لگے۔ یہود حضرت موسی کی امت تھے۔ مگر انھوں نے اپنی نسل کو مخصوص نسل سمجھ لیا۔ ان کی توجہات اپنی نسل کی طرف اتنا زیادہ مائل ہوئیں کہ بالآخر خدائی دین ان کے یہاں نسلی دین بن کر رہ گیا۔ وہ پیغمبر آخر الزماں کے صرف اس لیے منکر ہوگئے کہ وہ ان کی اپنی نسل میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ اِسي طرح عیسائی حضرت عیسیٰ کی امت تھے۔ انھوں نے حضرت عیسیٰ کو خدا کا پیغمبر ماننے کے بجائے ان کو خدا کا بیٹا فرض کرلیا۔ اس طرح بعد کو انھوں نے جو دین بنایا اس میں ابنیت مسیح نے سب سے زیادہ اہمیت حاصل کرلی۔
خدا کو اپنے بندوں سے جو دین مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ خالص توحید پر قائم ہوں۔ صرف ایک خدا ان کی تمام توجہات کا مرکز بن جائے۔ یہی اقامتِ دین ہے۔ اس مرکز توجہ میں تبدیلی کا دوسرا نام شرک ہے۔ اور جب لوگوں میں شرک آتا ہے تو فوراً تفریق اور اختلاف شروع ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ توحید کی صورت میں مرکز توجہ ایک رہتا ہے، جبکہ شرک کی صورت میں مرکز توجہ کئی بن جاتے ہیں۔
پیغمبر عربی صلی الله علیہ وسلم کا دین اگرچہ اپنے متن کے اعتبار سے محفوظ دین ہے۔ مگر آپ کی امت محفوظ امت نہیں۔امت کے لوگوں کے لیے بدستور یہ امکان کھلا ہوا ہے کہ وہ نئی نئی چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائیں۔ وہ خود ساختہ تشریح وتعبیر کے ذریعہ اصل دین میں تبدیلیاںکریں اور پھر ایک دین کو عملاً کئی دین بنا کر رکھ دیں۔