Tazkirul Quran, Qur’an 42:14
Mutual Consultation (Al-Shura)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
علم آنے کے بعد متفرق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دین حق کی دعوت بلند ہو اور پھر بھی آدمی اس سے الگ رہے۔ یا اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجائے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ذریعہ الله تعالی نے دین کو اس کے خالص انداز میں کھولا۔ اب چاہئے تھا کہ تمام وہ لوگ جو خدا کے طالب ہیں وہ آپ کے ساتھ جڑ جائیں۔ مگر وہ آپ کے ساتھ جڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ پچھلے نبیوں کے ساتھ اپنے آپ کو منسوب کرکے وہ لوگوں کے درمیان دین داری کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ یہی ان کے لیے کافی ہے حالانکہ جب دین صحیح کی دعوت بلند ہو تو تمام لوگوں کے لیے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے گھروندوں کو ڈھا دیں اور دین صحیح کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں وہ خدا کے نزدیک مجرم ہیں ، خواہ وہ غیر دین دار ہوں یا بظاہر دین دار۔
دينِ حق کی دعوت جب اٹھتی ہے تو کچھ لوگ ’’بغی‘‘ کی بنیاد پر اس کے منکر بن جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ شک کی بنیاد پر اس سے دور رہتے ہیں۔ بغی سے مراد حسد اور تکبر ہے۔ یہ ان لوگوں کا معاملہ ہے جو ماحول میں بڑائی کا مقام حاصل کیے ہوئے ہوں۔ حق کو ماننے میں انھیں بڑائی کے مقام سے نیچے اترنا پڑتا ہے۔ چونکہ وہ اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی نہیں ہوتے اس لیے وہ حق کی دعوت کو چھوٹا کرنے میں سرگرم ہوجاتے ہیں تاکہ اپنے موقف کو جائز ثابت کرسکیں۔
شک اور تردد کا معاملہ اکثر عوام الناس کے ساتھ پیش آتا ہے۔ داعی کی بات انھیں دلیل کی سطح پر وزنی معلوم ہوتی ہے۔ مگر ان اکابر کو چھوڑنا بھی ان کے لیے مشکل ہوتا ہے جن کی عظمت ان کے ذہن پر پہلے سے قائم ہوچکی ہو۔ یہ دو طرفہ تقاضے ان کے لیے آخری فیصلہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ پہلے گروہ نے اگر تکبرکی نفسیات کے تحت حق کو نظر انداز کیا تھا تو دوسرا گروہ شک کی نفسیات کے تحت اس کو اختیار نہیں کرپاتا۔ حق کو قبول کرنے سے یہ بھی محروم رہتا ہے اور وہ بھی ۔