Tazkirul Quran (Urdu) · Mutual Consultation (Al-Shura)

Tazkirul Quran, Qur’an 42:15–16

Mutual Consultation (Al-Shura)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہاں ’’کتاب‘‘ سے مراد وہ اصل دین ہے جو پیغمبروں کے ذریعہ بھیجا گیا۔ ’’اہواء‘‘ سے مراد وہ خودساختہ اضافے ہیں جو انسانوں نے خود اپنی طرف سے دین حق میں کیے۔ پیغمبر کو حکم دیاگیا کہ تم بس اصل دین پر جمے رہو۔حتی کہ دعوتی مصلحت کی بناپر بھی تم کو ایسا نہیں کرنا ہےکہ لوگوں کے خود ساختہ دین کے ساتھ رعایت کرنے لگو۔ تمھاراکام عدل کرنا ہے۔ یعنی مذہبی اختلافات کا فیصلہ کرکے یہ بتانا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ کون سا حصہ وہ ہےجو خدا کی طرف سے ہے اور کون سا حصہ انسانی آمیزش کے تحت دین میں شامل کرلیا گیا ہے۔

’’ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ تمھارے جھگڑنے کے باوجود ہم ایسا نہیں کریں گے کہ ہم بھی تم سے جھگڑنے لگیں۔ تم منفی رویہ اختیار کرو تب بھی ہم یک طرفہ طورپر اپنے مثبت رویہ پر قائم رہیں گے۔ داعی کی ذمہ داری صرف حق کا پیغام پہنچانے کی ہے۔ اس کے علاوہ جو چیزیں ہیں ان کو وہ خدا کے حوالہ کردیتا ہے۔

جو لوگ حق کو قبول کرلیں ان کو تنگ کرنا اور ان کو بے کار بحثوں میں الجھانا نہایت ظالمانہ کام ہے۔ ایسا کرنے والے اپنے آپ کو اس خطرہ میں مبتلا کررہے ہیں کہ آخرت میں ان پر خدا کا غضب ہو اور ان کو سخت عذاب میں ڈال دیا جائے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page