Tazkirul Quran, Qur’an 42:1–6
Mutual Consultation (Al-Shura)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اگر آدمی کو لامحدود نگاہ حاصل ہوجائے تو وہ دیکھے گا کہ یہاں ایک خدا ہے جو سارے زمین وآسمان کا مالک ہے۔ اس کی طاقت اتنی زبردست ہے کہ کائنات اس کی ہیبت سے گویا پھٹی جارہی ہے۔ فرشتے جو براهِ راست خدا کی خدائی سے باخبر ہیں وہ ہر آن خشیت میں ڈوبے ہوئے اس کی حمد وتسبیح کررہے ہیں۔ پھر وہ دیکھے گا کہ خدا اپنی قدرت خاص سے انسانوں میں سے بعض افراد کو چنتا ہے اور انھیں بالواسطہ انداز میں اپنا کلام پہنچاتا ہے تاکہ وہ تمام انسانوں کو حقيقتِ واقعہ سے باخبر کردیں۔انسان اگرچہ ان حقیقتوں کو براهِ راست طورپر نہیں دیکھتا مگر وہ عقل کے ذریعہ بالواسطہ طور پر ان کا ادراک کرسکتا ہے۔ یہی آدمی کا اصل امتحان ہے ۔ انسان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بصارت سے دکھائی نہ دینے والی چیزوں کو بصیرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ پیغمبروں کے کلام میں خدا کی آواز سنے اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے ۔ وہ دیکھے بغیر اس طرح مان لے گویا کہ وہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
قیامت کے دن کسی کے لیے یہ بات عذر نہ بن سکے گی کہ اس نے حقیقت کو براهِ راست نہ دیکھا تھا۔ کیوں کہ موجودہ امتحان کی دنیا میں حقیقت کو براهِ راست دکھانا مطلوب ہی نہیں۔ اگراصل پیغام کسی شخص تک پوری طرح پہنچ جائے تو اس کے بعد خدا کے نزدیک اس پر حجت قائم ہوجاتی ہے۔ حقیقت کا دلیل کی زبان میں ظاہر ہوجانا ہی کافی ہےکہ اس کو انکار حق کا مجرم قرار دے کر وہ سزا دی جائے جو منكرينِ حق کے لیے مقدر ہے۔