Tazkirul Quran, Qur’an 42:24–26
Mutual Consultation (Al-Shura)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ یہاں حق حق کے روپ میں سامنے آتا ہے اور باطل باطل کے روپ میں نمایاں ہوتا ہے۔ اگر ایک جھوٹی روح ہے تو اس سے کبھی سچا کلام ظاہر نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کسی غیر پیغمبر کے لیے ممکن نہیں کہ وہ پیغمبر کی زبان میں کلام کرسکے۔ ایک شخص پیغمبر نہ ہواور جھوٹ بول کر اپنے کو پیغمبر بتائے تو اس کے کلام میں لازماً جھوٹے پیغمبر کا انداز پیدا ہوجائے گا۔ کوئی شخص مصنوعی طور پر کبھی سچے پیغمبر کے انداز میں نہیں بول سکتا۔
’’اگر الله چاہے تو وہ تمھارے دل پر مہر لگا دے‘‘— اس کا مطلب بدلے ہوئے الفاظ میں یہ ہے کہ اگر تم الله پر جھوٹ باندھتے تو اس وقت مشیت خداوندی کے تحت تمھارے دل پر مہر لگ جاتی۔ایسی حالت میں خود قانون قدرت کے تحت یہ ہوتا کہ تمھاری زبان اس پاکیزہ ربانی کلام کے اظہار سے عاجز ہوجاتی جس کا کھلا ہوا نمونہ تمھارے کلام میں نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کا اعلی کلام خود اس کے پیغمبر خدا ہونے کا ثبوت ہے۔ اگر وہ واقعی خدا کا پیغمبر نہ ہوتا تو اس کی زبان سے کبھی ایسا اعلی کلام ظاہر نہیں ہوسکتا تھا۔
جو لوگ حق کی مخالفت کرتے ہیں وہ اپنے دل کی آواز کے تحت ایسا نہیں کرتے، بلکہ محض ضد اور عناد کے تحت اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خوداپنے ضمیر کی عدالت کے سامنے مجرم بن رہے ہیں، ان کے اوپر خدا کی حجت تمام ہوچکی ہے، اِلاّ یہ کہ آدمی توبہ کرے اور الله سے معافی کا خواستگار ہو۔