Tazkirul Quran, Qur’an 42:30–31
Mutual Consultation (Al-Shura)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
موجودہ دنیا کو اسباب کے قانون کے تحت بنایا گیا ہے۔ یہاں آدمی پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ واضح طورپر اس کی اپنی ہی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو تاہی کرتا ہے مگر وہ اس کے بُرے انجام سے بچ جاتا ہے۔
دنیا کے یہ واقعا ت اس لیے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے۔ جب وہ دیکھےکہ لوگ جو کچھ پارہے ہیں وہ اپنے عمل کے بقدر پارہے ہیں تو اس سے وہ یہ نصیحت لے کہ آخرت میں بھی اسی طرح ہر شخص اپنے عمل کے مطابق انجام پائے گا۔ اسی طرح جب وہ دیکھے کہ آدمی نے ایک کوتاہی کی مگر وہ اس کے انجام سے بچ گیا تو وہ اس سے یہ سبق حاصل کرے کہ خدا نہایت مہربان ہے۔ اگر آدمی اس کی طرف رجوع ہو تو وہ اپنی رحمتِ خاص سے اس کو اس کی کوتاہیوں کے انجام سے بچا سکتا ہے۔ ایمان جب گہرا ہو تو آدمی کا یہی حال ہوجاتا ہے۔ وہ دنیا کے واقعات میں آخرت کی تصویر دیکھنے لگتا ہے۔