Tazkirul Quran (Urdu) · Mutual Consultation (Al-Shura)

Tazkirul Quran, Qur’an 42:32–35

Mutual Consultation (Al-Shura)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

انسان سمندر میں اپنی کشتی دوڑاتاہے اور فضا میں اپنے جہاز اڑاتاہے۔ یہ صرف اس لیے ممکن ہوتاہے کہ خدا نے فطرت کے قانون کو ہمارے لیے سازگار بنا رکھا ہے۔ فطرت کے قوانین اگر ہم سے سازگاری نہ کریں تو نہ ہماری کشتیاں سمندروں میں دوڑیں اور نہ ہمارے جہاز ہواؤں میں اڑیں۔

زندگی کے ہر واقعہ میں نصیحت ہے مگر واقعات سے نصیحت کی خوراک لینے کے لیے صبر وشکر کا مزاج ضروری ہے۔ زندگی میں کبھی تکلیف پیش آتی ہے اور کبھی آرام۔ تکلیف کے وقت آدمی کو ظاہری حالات سے اوپر اٹھنا پڑتاہے تاکہ وہ واقعہ کو دوسرے رخ سے دیکھ سکے۔ اور یہ چیز صبر کے بغیر ممکن نہیں۔ اِسي طرح آرام کے وقت اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ بظاہر اپنی کوششوں سے ملنے والی چیز کو خدا کی طرف سے ملنے والی چیز سمجھا جائے۔ اور یہ وہی شخص کرسکتا ہے جس کے اندر وہ اعلی شعور پیدا ہوچکا ہو جس کو شکر کہاجاتاہے۔

نشانیوں میں جھگڑنا یہ ہے کہ جب کسی واقعہ میں خدائی نصیحت کے پہلو کی نشاندہی کی جائے تو آدمی اس کو نہ مانے اور واقعہ کو دوسرے دوسرے معنی پہنانے کی کوشش کرے۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سرکش ہیں اور کسی کی سرکشی صرف موجودہ دنیا میں چل سکتی ہے، وہ آخرت میں ہر گز چلنے والی نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page