Tazkirul Quran, Qur’an 42:37–43
Mutual Consultation (Al-Shura)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ایمان جب حقیقی معنوں میں کسی کو حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کے اندر انقلاب پیداکرتا ہے۔ اس کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرتی ہے۔ یہاں ایک بندۂ خدا کی جن خصوصیات کا ذکر ہے وہ سب وہی ہیں جو اس ایمانی شخصیت کے نتیجے میں کسی کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔
ایسے شخص کے اندر حقيقتِ واقعہ کے اعتراف کا مزاج پیداہوتا ہے۔ وہ خدا کے خدا ہونے اور اپنے بندہ ہونے کی حیثیت کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ خدا کی ایک پکار بلند ہو تو اس کے لیے ناممکن ہوجاتاہے کہ وہ اس پر لبیک نہ کہے۔ ایمانی شعور اس کو صحیح اور غلط کے بارے میں حساس بنا دیتا ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو کرنا چاہئے اور وہ نہیں کرتا جو نہیں کرنا چاہئے۔
اپنی حیثیت واقعی کا اعتراف اس کے اندر تواضع پیدا کرتا ہے جو اس سے غصہ، ظلم اور سرکشی کا مزاج چھین لیتا ہے،یہی تواضع اس کو مجبور کرتا ہے کہ اجتماعی معاملات میں وہ دوسروں کے مشورہ سے فائدہ اٹھائے وہ محض اپنی ذاتی رائے کی بنیاد پر اقدام سے پرہیز کرے۔ دوسروں کے ساتھ اس کا رشتہ خیر خواہی کا ہوتاہے، نہ کہ ضد اور استحصال کا۔ایسا آدمی دوسروں کے خلاف کبھی جارحیت نہیں کرتا۔ دوسروں کے خلاف وہ جب بھی اقدام کرتا ہے تو دفاع کے طورپر کرتاہے اور اتنا ہی کرتا ہے جتنا ان کے ظلم کو روکنے کے لیے ضروری ہو۔ وہ عین اشتعال انگیز حالات میں بھی اس کے لیے تیار رہتاہے کہ لوگوں کو معاف کردے اور انھوں نے اس کےساتھ جو برائی کی ہے اس کو بھول جائے۔
بندۂ مومن یہ سارے کام اپنے جذبۂ ایمان کے تحت کرتاہے تاہم الله اس کی قدردانی اس طرح فرماتاہے کہ اس کو اهلِ ہمت اور اولوالعزم کے خطاب سے نوازتا ہے،اور اس کو ابدی نعمتوں کے باغ میں داخل کردیتاہے۔