Tazkirul Quran (Urdu) · Mutual Consultation (Al-Shura)

Tazkirul Quran, Qur’an 42:51–53

Mutual Consultation (Al-Shura)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

موجودہ دنیا میں کوئی انسان براهِ راست خدا سے ہم کلام نہیں ہوسکتا۔ انسان کا عجز اس قسم کے کلام میں مانع ہے۔ چنانچہ پیغمبروں پر خدا کا جو کلام اترا وہ بالواسطہ انداز میں اترا۔ بالواسطہ خطاب کے کئی طریقے ہیں ان کی مثالیں مختلف پیغمبروں کی زندگی میں پائی جاتی ہیں۔

ایک عالم جب کوئی کتاب لکھتاہے یا ایک مفکر جب کوئی کلام پیش کرتاہے تو اس کے ماضی میں ایسے اسباب موجود ہوتے ہیں جو اس کے علمی اور فکری کارنامہ کی توجیہہ کرسکیں۔ مگر پیغمبر کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ پیغمبر کی نبوت کے بعد کی زندگی اس کی نبوت سے پہلے کی زندگی سے سراسر مختلف ہوتی ہے۔ غیر پیغمبر کا حال کا کلام اس کی ماضی کی زندگی کا تسلسل نظر آتا ہے۔ مگر پیغمبر کی زبان سے بعد از نبوت جو کلام جاری ہوتا ہے وہ اس کے قبل از نبوت کلام سے اتنا زیادہ ممتاز ہوتا ہے کہ پیغمبر کے ماضی سے اس کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی۔ یہ ایک واضح قرینہ ہے جو یہ ثابت کرتاہے کہ پیغمبر کا کلام خدائی کلام ہے، نہ کہ عام انسانی کلام۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ کا دیاہوا قرآن اور آپ کی اپنی زبان سے نکلا ہوا کلام، دونوں آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ کوئی شخص جو عربی زبان جانتا ہو اور وہ ان دونوں کو تقابلی طورپر دیکھے تو وہ دونوں کے درمیان کھلا ہوا فرق پائے گا۔ حدیث کی زبان واضح طورپر محمد بن عبد الله کی زبان ہے اور قرآن کی زبان واضح طورپر خدا کی زبان۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page