Tazkirul Quran, Qur’an 43:20–25
Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
موجودہ دنیا میں انسان جو بھی کام کرنا چاہتا ہے وہ اس کے مواقع پالیتا ہے۔ اس سے اکثر لوگ اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں صحیح کررہے ہیں۔ اگر وہ غلطی پر ہوتے تو وہ اپنے طریقہ کو چلانے میں کامیاب نہ ہوتے۔ اس قسم کی باتیں اکثر وہ لوگ کرتے ہیں جن کو خوش حال طبقہ کہاجاتا ہے ۔
مگر یہ زبردست غلط فہمی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر طریقہ کا چل پڑنا اس لیے ہے کہ یہاں امتحان کی آزادی ہے۔ آخرت کی دنیا میں امتحان کی مدت ختم ہوجائے گی۔ اس لیے وہاں کسی کے لیے یہ موقع بھی باقی نہ رہے گا۔
ہر دور میں پیغمبروں کے دین کا مقابلہ سب سے زیادہ آبائی دین سے پیش آیا ہے۔ ’’آباء‘‘ قوموں کی نظر میں اکابر کا درجہ حاصل کرچکے ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں وقت کا پیغمبر انھیں اصاغر میں سے نظر آتا ہے اس بنا پر ان کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ بڑوں کے دین کوچھوڑ کر چھوٹے کے دین کو اختیار کرلیں۔ مگر انھیں ’’چھوٹوں‘‘ کی تکذیب پر ان قوموں پر وہ عذاب آیا جس کے متعلق ان کا گمان تھا کہ وہ صرف ’’بڑوں‘‘ کی تکذیب پر آسکتا ہے۔