Tazkirul Quran (Urdu) · Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

Tazkirul Quran, Qur’an 43:26–30

Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جس کلمۂ توحید کا ذکر ہے وہ ان کی دعوتی زندگی کے آخری دور میں نکلا تھا۔ یہ کلمہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہ تھا ۔ وہ ایک عظیم تاریخ کا خلاصہ تھا۔ حضرت ابراہیم جب سن شعور کو پہنچے تو انھیں یہ دریافت ہوئی کہ انسان کا معبود صرف ایک ہے۔ اس کے سوا تمام معبود باطل اور بے حقیقت ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کی تعمیر اسی عقیدہ پر کی۔ خاندان اور قوم کے اندر اسی کی تبلیغ کی۔ وہ کسی مصلحت کا لحاظ کیے بغیر لمبی مدّت تک اس پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ ان کا موحد ہونا ہی ان کی حيثيتِ عرفی بن گیا۔ اس طرح کی ایک لمبی زندگی گزارنے کے بعد جب وہ مذکورہ کلمہ کہہ کر اپنے وطن سے روانہ ہوئے تو ان کا کلمہ قدرتی طورپر کلمۂ باقیہ بن گیا۔ وہ ایک ایسا واقعہ تھا کہ حضرت ابراہیم کا ذکر آتے ہی وہ لوگوں کو یاد آجاتاتھا۔

حضرت ابراہیم کی اس طاقت ور روایت کوان کے بعد کی نسل میں نشانِ راہ کا کام دینا چاہئے تھا۔ مگر دنیا کی دلچسپیوں نے بعد کے لوگوں کو اس سے غافل کردیا۔ حتی کہ وہ اس معاملے میں اتنے بے شعور ہوگئے کہ بعد کے زمانہ میں جب خدا کا ایک بندہ انھیں ان کا ماضی کا سبق یاد دلانے کے لیے اٹھا تو انھوں نے اس کا انکار کردیا۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page