Tazkirul Quran (Urdu) · Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

Tazkirul Quran, Qur’an 43:31–35

Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

پیغمبر اسلام جب مکہ میں ظاہر ہوئے تو اس وقت وہ لوگوں کو ایک معمولی انسان نظر آتے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ خدا کو اگر اپنا کوئی نمائندہ ہماری ہدایت کے لیے بھیجنا تھا تو اس نے عرب کی مرکزی بستیوں (مکہ اور طائف) کی کسی عظیم شخصیت کو اس کے لیے کیوں نہیں چنا۔ مگر یہ ان کی نظر کی کوتاہی تھی۔ انسان صرف حال کو دیکھ پاتا ہے جب کہ پیغمبر اسلام کی عظمت کو سمجھنے کے لیے مستقبل کو دیکھنے والی نظر درکار تھی۔ چونکہ لوگوں کو اس قسم کی دوربیں نظر حاصل نہ تھی، وہ پیغمبر اسلام کی عظمت کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

پیغمبر اسلام کو کم سمجھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی زندگی میں مادی چیزوں کی رونق لوگوں کو دکھائی نہ دیتی تھی۔ مگر ان مادی چیزوں کی خداکی نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ چیزیں خدا کی نظر میں اتنی غیر اہم ہیں کہ وہ چاہے تو لوگوں کو سونے چاندی کا ڈھیر دے دے۔ مگر خدا نے ایسا اس لیے نہیں کیا کہ لوگ انھیں چیزوں میں اٹک کر رہ جائیں گے۔ وہ اس سے آگے بڑھ کر حقیقت کو نہ پاسکیں گے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page