Tazkirul Quran (Urdu) · Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

Tazkirul Quran, Qur’an 43:40–45

Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

آنکھ والا اپنی آنکھ کو بند کرلے تو اس کو کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ کان والا اپنے کان کو بند کرلے تو اس کو کچھ سنائی نہیں دے گا۔ اسی طرح جو شخص اپنی عقل کو استعمال نہ کرے، وہ عقل کو معطل کرکے اپنی خواہش کے رخ پر چلنے لگے تو ایسے شخص کو سمجھانا بجھانا بالکل بے کار ہوتاہے۔ سمجھنے کا کام عقل کے ذریعہ ہوتاہے اور اپنی عقل کے اوپر اس نے اپنی خواہشات کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ تاہم مدعو کا رویہ خواہ کچھ بھی ہو، داعی کو اپنا دعوتی کام ہر حال میں جاری رکھنا ہے، یہاں تک کہ اتمام حجت کے مرحلے تک پہنچ جائے۔

حق کا داعی اگر چہ ایک انسان ہوتا ہے مگر حق کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ آدمی حق کے داعی کا انکار کرکے سمجھتا ہے کہ وہ حق کی زد سے بچ گیا۔ حالانکہ عین اسی وقت وہ خداکی زد میں آجاتا ہے۔ آدمی اگر اس راز کو جانے تو وہ حق کے داعی کو نظر انداز کرتے ہوئے کانپ اٹھے گا۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ حق کے داعی کو نظر انداز کرنا خود حق کو نظر انداز کرنا ہے اور حق کو نظر انداز کرنا خدا کو نظر انداز کرنا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page