Tazkirul Quran, Qur’an 43:46–50
Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی اور عصا اور يدِ بیضا کا معجزہ دکھایا۔ اس کو دیکھ کر فرعون اور اس کے درباری ہنسنے لگے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے موسیٰ کو ان کی دعوت میں نہیں دیکھا بلکہ ان کی شخصیت میں دیکھا۔ انھیں نظر آیا کہ موسیٰ کی شخصیت بظاہر ان کی اپنی شخصیت سے کم ہے۔ اسی طرح معجزہ کے متعلق انھوں نے خیال کیا کہ یہ محض جادو ہے، اور ایسا جادو ملک کے دوسرے جادوگر بھی دکھا سکتے ہیں۔
حق کی دعوت کے سلسلے میں ہمیشہ یہی ہوتاہے۔ لوگ داعی کی شخصیت کو دیکھ کر دعوت کو رد کردیتے ہیں۔ وہ نشانیوں کو عام واقعات پر قیاس کرکے اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔
فرعون اور اس کے ساتھیوں نے جب حضرت موسیٰ کا انکار کیا تو الله تعالی نے ان پر بہت سے تنبیہی عذاب بھیجے تاکہ وہ دوبارہ رجوع کریں۔ ان تنبیہی عذابوں کا ذکر سورۂ اعراف (133-35) میں موجود ہے۔ یہ تمام عذاب حضرت موسیٰ کی دعا پر آئے اور حضرت موسیٰ کی دعا پر ختم ہوئے۔ یہ ایک مزید سبب تھا کہ ان کے اندر رجوع کی کیفیت پیدا ہو۔ مگر وہ رجوع نہ ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دلیل سے نہ مانیں وہ تنبیہ سے بھی نہیں مانتے، اِلاّ یہ کہ آخرت کا نہ لوٹنے والا عذاب انھیں آخری طورپر اپنے گھیرے میں لے لے۔