Tazkirul Quran, Qur’an 43:51–62
Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
موجودہ دنیا میں یہ ممکن ہے کہ آدمی ہر بات کا الٹا مفہوم نکال سکے، مثلاً رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ (الله کے سواجس کی پرستش کی جائے اس میں کوئی خیر نہیں) اس کو سن کر مخالفین نے کہا کہ عیسائی لوگ مسیح کو پوجتے ہیں پھر کیا مسیح میں کوئی خیر نہیں(مسند احمد، حدیث نمبر 2918)۔ ظاہر ہے کہ یہ محض ایک شوشہ تھا۔ کیوں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو بات فرمائی تھی وہ عابد کی نسبت سے تھی نہ کہ معبود کی نسبت سے، اور اگر اس کو معبود کی نسبت سے مانا جائے تب بھی واضح طورپر اس سے مراد وہ غیر معبود تھے جو اپنے معبود بنائے جانے پر راضی ہوں۔ آدمی اگر بات کو اس کے صحیح رخ سے نہ لے تو ہر بات کو وہ الٹے معنی پہنا سکتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی درست بات کیوں نہ ہو۔
حضرت عیسی علیہ السلام کی شخصیت ایک اعتبار سے فرشتوں کے مشابہ تھی۔ اس پر آنجناب کو بہت سے لوگوں نے معبود بنالیا۔مگر حضرت مسیح کی ملکوتی تخلیق خدا کی قدرت کی مثال تھی نہ کہ خود حضرت مسیح کی ذاتی قدرت کی مثال۔ حقیقت یہ ہے کہ الله کے لیے اس قسم کی تخلیق کچھ بھی مشکل نہیں۔ وہ چاہے تو زمین کی تمام آبادی کو فرشتوں کی آبادی بنا دے۔ پھر بھی یہ فرشتے فرشتے ہی رہیں گے، وہ معبود نہیں ہوجائیں گے۔
حضرت مسیح کو یہ معجزہ دیاگیا کہ وہ مُرده کو زندہ کردیتے تھے۔ مٹی کے پتلے میں پھونک مار کر اسے جاندار بنا دیتے تھے۔ یہ دراصل ایک خدائی نشانی تھی جو زندگی بعد موت کے امکان کو بتانے کے لیے ظاہر کی گئی تھی۔ مگر لوگوں نے اس سے اصل سبق تو نہیں لیا۔ البتہ حضرت مسیح کو فوق البشر سمجھ کر انھیں پوجنے لگے۔ اسی طرح خدائی نشانیاں ہمیشہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کو اگر نشانی سمجھا جائے تو ان سے زبردست نصیحت ملتی ہے۔ اور اگر انھیں نشانی کے بجائے کچھ اور سمجھ لیا جائے تو وہ آدمی کو صرف گمراہی میں ڈالنے کا سبب بن جائیں گی۔
شیطان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ خدائی نشانیوں سے آدمی کو سبق نہ لینے دے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ فیصلہ ہونے والا ہے کہ شیطان کو آدمی کے اوپر کامیابی حاصل ہوئی یا آدمی کو شیطان کے اوپر۔