Tazkirul Quran, Qur’an 43:63–65
Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
یہاں حکمت سے مراد دین کی روح ہے اور صراط مستقیم سے مراد وہی چیز ہے جس کو آیت میں خدا کا خوف، اس کی عبادت اور رسول کی اطاعت کہاگیا ہے۔ یہی اصل دین ہے۔ یہود نے بعد کو یہ کیا کہ انھوں نے روح دین کھودی اور دین کے بنیادی احکام میں موشگافیوں کے ذریعے بے شمار نئے نئے مسائل پیدا کیے۔ یہ مسائل آج بھی یہود کی کتابوں میں موجود ہیں۔
انھیں خود ساختہ اضافوں کی وجہ سے ان کے اندر اختلافی فرقے بنے۔ کسی نے ایک اختلافی مسئلہ پر زور دیا، کسی نے دوسرے اختلافی مسئلہ پر۔ اس طرح ان کے یہاں ایک دین کئی دین بن گیا۔ حضرت مسیح اس لیے آئے کہ وہ یہود کو بتائیں کہ دین میں اصل اہمیت روح کی ہے، نہ کہ ظواہر کی۔ اور یہ کہ آدمی کو نجات جس چیز پر ملے گی وہ اس دین کی پیروی پر ملے گی جو خدا نے بھیجا ہے، نہ کہ اس دین پر جو تم لوگوں نے بطور خود وضع کررکھا ہے۔
حضرت مسیح نے بتایا کہ اصل دین یہ ہے کہ تم الله سے ڈرو۔ صرف ایک الله کے عبادت گزار بنو۔زندگی کے معاملات میں رسول کے نمونہ کی پیروی کرو۔ اس کے سوا تم نے اپنی بحثوں اور موشگافیوں سے جو بے شمار مسائل بنا رکھے ہیں وہ تمھارے اپنے اضافے ہیں۔ ان اضافوں کو چھوڑ کر اصل دین پر قائم ہوجاؤ — حضرت مسیح کی یہ باتیں آج بھی انجیلوں میں موجود ہیں۔