Tazkirul Quran, Qur’an 43:74–80
Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
امید ہمیشہ تکلیف کے احساس کو کم کردیتی ہے۔ آدمی کسی تکلیف میں مبتلا ہو اور اسی کے ساتھ اس کو یہ امید ہو کہ یہ تکلیف ایک روز ختم ہوجائے گی تو آدمی کے اندر اس کو سہنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر جہنم کی تکلیف وہ تکلیف ہے جس سے نکلنے کی کوئی امید انسان کے لیے نہ ہوگی۔ جہنم میں فرشتوں کو مدد کے لیے پکارنا جہنم والوں کی بے بسی کا بے تابانہ اظہار ہوگا۔ ورنہ پکارنے والا خود جانتا ہوگا کہ خدا کا فیصلہ آخری طور پر ہوچکا ہے۔ اب وہ کسی طرح ٹلنے والا نہیں۔
جہنم میں کسی کا داخل ہونا سراسر اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہوگا۔ انسان کو الله تعالی نے اعلی درجہ کی سمجھ دی۔ اس کے سامنے حق کی راہیں کھولیں۔ مگر انسان نے جانتے بوجھتے حق کو نظر انداز کیا۔ اس کی سرکشی یہاںتک پہنچی کہ وہ حق کے داعی کو مٹانے اور برباد کرنے کے درپے ہوگیا۔ ایسی حالت میں اس کا انجام اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا کہ اس کو دائمی طورپر عذاب میں ڈال دیا جائے۔