Tazkirul Quran (Urdu) · Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

Tazkirul Quran, Qur’an 43:86–89

Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قیامت میں پیغمبر اور داعيانِ حق جو شفاعت کریں گے وہ حقيقتاً شفاعت نہیں ہے بلکہ شہادت ہے۔ یعنی ایسی بات کی گواہی دینا جس کو آدمی ذاتی طور پر جانتا ہو۔ آخرت میں جب لوگوں کا مقدمہ پیش ہوگا تو سارے علم کے باوجود الله مزید تائید کے طور پر ان لوگو ں کو کھڑا کرے گا جو قوموں کے ہم عصر تھے۔ انھوں نے ان کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا۔ پھر کسی نے مانااور کسی نے نہیں مانا۔ کسی نے حق کا ساتھ دیا اور کوئی حق کا مخالف بن کر کھڑا ہوگیا۔ یہی تجربہ جوان صالحین پر براهِ راست گزرا اس کو وہ خدا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کہ کوئی گواہ عدالت میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایک سچا بیان دے۔ اس کے سوا کسی کو قیامت میں یہ اختیار حاصل نہ ہوگا کہ وہ کسی مجرم کا شافع بن کر کھڑا ہو اور اس کے بارے میں اس خدائی فیصلہ کو بدل دے جو از روئے واقعہ اس کے بارے میں ہونے والا تھا۔ خدا اس سے بہت بلند ہے کہ اس کے حضور کوئی شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے۔

دعوت حق کا کام سراسر نصیحت کا کام ہے۔ آخری مرحلہ میں جب کہ داعی پر یہ واضح ہوجائے کہ لوگ کسی طرح ماننے والے نہیں ہیں اس وقت بھی داعی لوگوں کے لیے خدا سے دعا کرتا ہے۔ لوگوں کی ایذارسانی پر صبر کرتے ہوئے وہ لوگوں کا خیر خواہ بنا رہتا ہے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page