Tazkirul Quran, Qur’an 43:9–14
Ornaments of Gold (Al-Zukhruf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ہر زمانہ میں بیشتر انسان یہ مانتے رہے ہیں کہ کائنات کا خالق ومالک خدا ہے اور وہی ہے جس نے ہمیں زندگی کے تمام سامان دئے ہیں۔کائنات کو وجود میں لانا اور زمین پر سامانِ حیات کی فراہمی اتنا بڑا کام ہےکہ کسی شخص کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اس کو ایک خداکے سوا کسی اور کی طرف منسوب کرسکے۔
اس اقرار کا تقاضا ہے کہ انسان سب سے زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہو۔ اس کی زندگی خدا رخی زندگی ہوجائے۔ مگر انسان دوسری چیزوں کو اپنا مقصودبناتا ہے، وہ غیر خدا کو اپنی توجہات کا مرکز ٹھہرالیتا ہے۔
الله تعالی نے حقیقت کو اپنے پیغمبروں کے ذریعہ کھولا ہے۔ اسی کے ساتھ اس نے دنیا کی تخلیق اس طرح کی ہے کہ وہ حقائق معنوی کی عملی تمثیل بن گئی ہے۔ مثلاً یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کو مر کر دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اس حقیقت کو نباتات کی سطح پر بار بار دکھایا جارہا ہے۔ انسان ہر سال یہ دیکھتا ہے کہ زمین خشک ہوگئی۔ اس کے بعد بارش ہوتی ہے اور زمین دوبارہ سر سبز ہوجاتی ہے۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ اسی طرح انسان بھی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
موجودہ دنیا کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ حیرت انگیز طورپر انسان کے موافق ہے۔ یہاں کی تمام چیزیں اس انداز پر بنائی گئی ہیں کہ انسان ان کو جس طرح چاہے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ وہ جب خدا کی دنیا کی کسی چیز کو اپنے لیے استعمال کرے تو اس کا دل خدا کے آگے جھک جائے، اس کی زبان سے اعتراف و دعا کے کلمات ابلنے لگیں۔