Tazkirul Quran, Qur’an 44:22–29
Smoke (Al-Dukhan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
لمبی مدت تک حضرت موسیٰ کی تبلیغی کوششوں کے بعد قوم فرعون پر اتمام حجت ہوگیا۔ اب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ مجرم ہیں۔ اس وقت حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ وہ اپنی قوم (بنی اسرائیل) کے ساتھ مصر سے نکل کر باہرچلے جائیں۔ حضرت موسیٰ روانہ ہوئے یہاں تک وہ دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ اس وقت دریا کا پانی ہٹ گیا اور آپ کے لیے پار ہونے کا راستہ نکل آیا۔
فرعون اپنے لشکر کے ساتھ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا پیچھا کرتا ہوا آرہا تھا۔ اس نے جب دریا میں راستہ بنتے ہوئے دیکھا تو اس نے سمجھا کہ جس طرح موسیٰ پار ہوگئے ہیں وہ بھی اسی طرح پار ہوسکتا ہے۔ مگر دریا کا راستہ سادہ معنوں میں صرف راستہ نہ تھا بلکہ وہ خدا کا حکم تھا اور خدا کا حکم اس وقت موسیٰ کے لیے نجات کا تھا اور فرعون کے لیے ہلاکت کا۔ چنانچہ جب فرعون اور اس کا لشکر دریا میں داخل ہوئے تو دونوں طرف کا پانی برابر ہوگیا۔ فرعون مع اپنے لشکر کے اس میں غرق ہوگیا۔
دنیا کی نعمتیں جس کو ملتی ہیں اکثر وہ ان کو اپنی ذاتی چیز سمجھ لیتا ہے حالانکہ کسی کے لیے بھی وہ ذاتی نہیں ہیں۔ خدا جب چاہے کسی کو دے اور جب چاہے اس سے چھین کر اسے دوسروں کے حوالے کردے۔