Tazkirul Quran, Qur’an 44:30–33
Smoke (Al-Dukhan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
دنیا میں ایک قوم کا گرنا اور دوسری قوم کا ابھرنا اتفاقی طورپر نہیں ہوتا۔ اور نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ظالم قوم اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے دوسری قوم پر غالب آگئی۔ یہ تمام تر خدا کے فیصلے کے مطابق ہوتا ہے۔ یہ خدا ہے جو اپنے فیصلہ کے تحت ایک کے لیے مغلوبیت کا اور دوسرے کے لیے غلبہ کا فیصلہ کرتاہے۔ اور وہ جو کچھ فیصلہ کرتاہے اپنے علم کی بنا پر کرتا ہے، نہ کہ اَلل ٹپ طور پر۔
علم الٰہی کے مطابق فیصلہ ہونے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے بربنائے استحقاق ہوتا ہے۔ خدا اپنے کلی علم کے تحت قوموں کو دیکھتا ہے۔ پھر وہ جس کو بااستحقاق پاتا ہے اس کے حق میں غلبہ کا فیصلہ کرتاہے اور جس کو بے استحقاق دیکھتا ہے اس کو مغلوب ومعزول کردیتاہے۔
اقوام کی زندگی میں ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ان کے ساتھ جو فیصلہ ہوا ہے وہ خدا کی طرف سے ہوا ہے۔ اگر آدمی کی بصیرت زندہ ہو تو وہ ان نشانیوں میں ان اسباب کی جھلک پالے گا جس کے تحت خدا نے قوموں کے حق میں اپنا فیصلہ صادر فرمایا ہے۔