Tazkirul Quran, Qur’an 44:34–37
Smoke (Al-Dukhan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
ہردور میں انسان کی گمراہی کی جڑ یہ رہی ہے کہ اس نے موت کے بعد زندگی میں اپنا یقین کھودیا۔ کچھ لوگوں کی بے یقینی کا اظہار ان کی زبان سے بھی ہوجاتا ہے، اور کچھ لوگ زبان سے نہیں کہتے۔ مگر ان کا دل اس یقین سے خالی ہوتا ہے کہ انھیں مرکر دوبارہ اٹھنا ہے اور الله کے سامنے اپنے اعمال کا حساب دیناہے۔
تبع قدیم یمن کے حمیر قبیلہ کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ 300 قبل مسیح سے 115 قبل مسیح تک ان کو عروج حاصل رہا۔ قدیم عرب میں ان کی عظمت کا بڑا چرچا تھا۔ قرآن کے ابتدائی مخاطبین (قریش) کے لیے قوم تبع کا ابھرنا اور گرنا ایک معلوم اور مشہور بات تھی۔ یہ ان کے لیے اس بات کا ثبوت تھاکہ اس دنیا میں مجازات کا قانون جاری ہے۔ اسی طرح تمام لوگوں کے لیے کوئی نہ کوئی ’’قوم تبع‘‘ ہے جو اپنے انجام سے ان کو سبق دے رہی ہے۔ مگر انسان ہمیشہ یہ کرتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کو عادت کے مطابق ہونے والا واقعہ سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان سے وہ سبق نہیںلے پاتا جو ان کےاندر خدا نے چھپا رکھا تھا۔