Tazkirul Quran, Qur’an 44:38–42
Smoke (Al-Dukhan)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
زمین وآسمان کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تخلیق نہایت با معنی انداز میں ہوئی ہے۔ پوری کائنات ایک مقصد کے تحت عمل کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس دنیا میں انسان کے لیے شاندار تمدن کی تعمیرناممکن ہوجائے۔
آخرت کا عقیدہ اسی کائناتی معنویت کی توسیع ہے۔ جو کائنات اتنے بامعنی انداز میں بنائی گئی ہو، ناممکن ہے کہ وہ سراسر بے معنی طورپر ختم ہوجائے۔ کائنات کی موجودہ معنویت اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ ایک بامعنی اور با مقصد انجام پر ختم ہونے والی ہے۔ آخرت اسی بامعنی ا ور با مقصد انجام کا دوسرا نام ہے۔
دنیا کا موجودہ مرحلہ آزمائش کا مرحلہ ہے۔ اس لیے آج دنیا کی معنویت میں ہر آدمی اپنا حصہ پارہا ہے۔ مگر جب آخرت آئے گی تو اس وقت دنیا کی معنویت میں صرف ان لوگوں کو حصہ ملے گا جو خداکے نزدیک فی الواقع اس کے مستحق قرار پائیں۔