Tazkirul Quran (Urdu) · Smoke (Al-Dukhan)

Tazkirul Quran, Qur’an 44:58–59

Smoke (Al-Dukhan)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

قرآن بلا شبہ ایک عظیم کتاب ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ وہ نہایت آسان کتاب ہے مگر اس کا آسان ہونا نصیحت کے اعتبار سے ہے۔ یعنی جو شخص اس سے حق کو جاننا چاہتا ہے وہ اس کو اپنے لیے نہایت آسان پائے گا۔ مگر جو شخص تلاش حق کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو اس کے لیے قرآن میں کوئی آسانی نہیں۔

موجودہ دنیا میں آدمی کے سنجیدہ ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ ’’انتظار‘‘ کی نفسیات نہ رکھتا ہو۔ یعنی حقیقت کا دلیل کی سطح پر ظاہر ہونا ہی اس کے لیے کافی ہوجائےکہ وہ ا س کو مان لے۔ جو شخص دلیل کی سطح پر ثابت شدہ ہوجانے کے بعد اس کو نہ مانے وہ گویا کہ اس بات کا انتظار کررہا ہے کہ حقیقت برہنہ ہو کر اس کے سامنے آجائے۔ مگر جب حقیقت برہنہ ہو کر سامنے آتی ہے تو منوانے کے لیے نہیں بلکہ اس لیے آتی ہے کہ اعتراف کرنے والوں کی قدر دانی کرے اور جنھوں نے اس سے پہلے اعتراف نہیں کیا تھا انھیں ہمیشہ کے لیے اندھے پن کے غار میں ڈال دے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page