Tazkirul Quran (Urdu) · Kneeling (Al-Jathiyah)

Tazkirul Quran, Qur’an 45:1–6

Kneeling (Al-Jathiyah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

یہ کہنا کہ قرآن عزیز وحکیم خداکی طرف سے اترا ہے، گویا خود اپنی طرف سے ایک ایسا قطعی معیار دینا ہے جس پر اس کی صداقت کو جانچا جاسکے۔ خدائے عزیز کی طرف سے اس کے اترنے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اس کتاب کو زیر نہ کرسکے گا۔ قرآن ہر حال میں اپنے مخالفین پر غالب آکر رہے گا۔

یہ بات مکی دور میں کہی گئی تھی۔ اس وقت حالات سراسر قرآن کے خلاف تھے۔ مگر بعد کی تاریخ نے حیرت انگیز طورپر اس کی تصدیق کی ۔ قرآن کی دعوت کو تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔

اسی طرح خدائے حکیم کی طرف سے اترنے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے مضامین سب کے سب عقل ودانش پر مبنی ہوں۔ یہ بات بھی ڈیڑھ ہزار سال سے مسلسل درست ثابت ہوتی جارہی ہے۔ قرآن دورِ سائنس سے پہلے اترا۔ مگر دورِ سائنس میں بھی قرآن کی کوئی بات عقل کے خلاف ثابت نہ ہوسکی۔

اس کے علاوہ جو کائنات انسان کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے، اس کی تمام چیزیں قرآن کے پیغام کی تصدیق بن گئی ہیں۔ تاہم یہ تصدیق صرف ان لوگوں کے لیے تصدیق بنے گی جن کے اندر یقین کرنے کا ذہن ہو جو نشانیوں کی زبان میں ظاہر کی جانے والی بات کو پانے کی استعداد رکھتے ہوں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page