Tazkirul Quran (Urdu) · Kneeling (Al-Jathiyah)

Tazkirul Quran, Qur’an 45:16–20

Kneeling (Al-Jathiyah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

’’بنی اسرائیل کو ہم نے دنیا والوں پر فضیلت دی‘‘— یہ وہی بات ہے جو امت محمدی کے ذیل میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے کہ’’تم خیر امت ہو‘‘۔ کسی گروہ کو خدا کی کتاب کا حامل بنانا اس کو دوسری قوموں پر ہدایت کا ذمہ دار بنانا ہے۔ یہی اس کا افضل الامم یا خیر الامم ہونا ہے۔

اصولی طور پر بنی اسرائیل کی حیثیت بھی اسی طرح عالمی تھی جس طرح امت مسلمہ کی حیثیت عالمی ہے۔ مگر بنی اسرائیل نے اپنی کتاب میں تحریفات کرکے ہمیشہ کے لیے اپنا یہ استحقاق کھودیا۔

دین کی اصل تعلیمات میں ہمیشہ وحدت ہوتی ہے۔ مگر علماء کے اضافے اس میں اختلاف اور تعدد پیدا کردیتے ہیں۔ ہر عالم اپنے ذوق کے لحاظ سے الگ الگ اضافے کرتا ہے۔ اس کے بعد ہر عالم اور اس کے متبعین اپنے اضافوں کو صحیح اور دوسرے کے اضافوں کو غلط ثابت کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اس طرح دینی فرقے بننا شروع ہوتے ہیں اور آخر کار یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ ایک دین کئی دینوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔

بنی اسرائیل نے جب دین منزَّل کو دین محرّف کی حیثیت دے دی اس وقت محمد صلی الله علیہ وسلم کے ذریعہ الله نے قرآن اتارا۔ چونکہ آپ کے بعد کوئی پیغمبرآنے والا نہ تھا۔اس لیے الله نے خصوصی اہتمام کے ساتھ قرآن کو محفوظ کردیا تاکہ دوبارہ یہ صورت نہ پیدا ہو کہ الله کا دین انسانی اضافوں میں گم ہوکر رہ جائے۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page