Tazkirul Quran (Urdu) · Kneeling (Al-Jathiyah)

Tazkirul Quran, Qur’an 45:7–11

Kneeling (Al-Jathiyah)

By Maulana Wahiduddin Khan

Commentary

حق کا اعتراف اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو کھونے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس لیے وہ حق کا اعتراف بھی نہیں کرتا۔ مگر حق کے آگے نہ جھکنا خداکے آگے نہ جھکنا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کے یہاں سخت ترین عذاب ہے۔

آدمی اگر چہ تکبر کی بنا پر حق سے اعراض کرتا ہے تاہم اپنے رویہ کے جواز کے لیے وہ نظریاتی دلیل پیش کرتا ہے۔ مگر اس دلیل کی حقیقت جھوٹے الفاظ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ایسا آدمی کسی چیز کو غلط مفہوم دے کر اس کو شوشہ بناتاہے۔ اور اس شوشہ کی بنیاد پر حق کا اور اس کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ ایسے لوگ سخت ترین سزاکے مستحق ہیں۔ کیوں کہ وہ بد عملی پر سرکشی کا اضافہ کررہے ہیں۔ اس سرکشی پر انھیں جو چیز آمادہ کرتی ہے وہ ان کی دنیوی حیثیت ہے۔ مگر کسی کی دنیوی حیثیت آخرت میں ا س کے کچھ کام آنے والی نہیں۔

‹ Previous passage Next passage › Open in the reader

Printed page