Tazkirul Quran, Qur’an 45:23
Kneeling (Al-Jathiyah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
خواہش کو اپنا معبود بنانے کا مطلب خواہش کو اپنی زندگی میں سب سے برتر مقام دینا ہے جو شخص اپنی خواہش کے تحت سوچے اور اپنی خواہش کے تحت عمل کرے وہ گویا اپنی خواہش ہی کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے۔
آدمی کی عقل صحیح اور غلط کو پہچاننے کی کامل صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر جو شخص اپنی عقل کو اپنی خواہش کا تابع بنالے اس کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کے وزن کو محسوس نہیں کرپاتا۔ وہ ہر بات کے جواب میں ایک جھوٹی توجیہہ پیش کرکے اسے ردکردیتا ہے۔ آدمی کی یہ روش آخر کار اس کی عقلی قوتوں کو مسخ کردیتی ہے۔ اس کے کان الفاظ سنتے ہیں مگر ان کے معانی تک ان کی پہنچ نہیں ہوتی۔ اس کی آنکھ حقیقت کو دیکھتی ہے مگر وہ اس سے سبق نہیں لے پاتی۔ اس کے دل تک ایک بات پہنچتی ہے مگر وہ اس کے دل کو تڑپانے والی نہیں بنتی۔
عقلی قوتوں کو خدا نے ہدایت کے داخلہ کا دروازہ بنایا ہے۔ مگر جو شخص اپنی خواہش پرستی میں ان دروازوں کو بند کرلے اس کے اندر ہدایت داخل ہوگی تو کس راستہ سے داخل ہوگی۔