Tazkirul Quran, Qur’an 45:24–26
Kneeling (Al-Jathiyah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
’’ہم کو زمانہ کی گردش ہلاک کرتی ہے‘‘ عام لوگوں کا قول نہیں۔ اس طرح کی باتیں ہمیشہ مخصوص افراد کرتے ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو اپنی ذہانت کی وجہ سے اکثر سماج کے فکری نمائندہ کی حیثیت حاصل کرلیتے ہیں۔ تاہم یہ باتیں وہ محض قیاس کی بنیاد پر کہتے ہیں۔ وہ کسی حقیقی علم کی بنیاد پر ایسا نہیں کہتے۔ اس کے مقابلہ میں پیغمبر جو بات کہتا ہے اس کی بنیاد ٹھوس حقیقت پر قائم ہے۔
ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نہیں تھا۔ پھر وہ پیدا ہو کر موجود ہوگیا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ مرجاتا ہے۔ گویا یہاں ہر آدمی کو موت کے بعد زندگی ملتی ہے اور زندگی کے بعد وہ دوبارہ مرجاتا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ جس طرح پہلی بار موت کے بعد زندگی ہوئی، اسی طرح دوسری بار بھی موت کے بعد زندگی ہوگی۔
اس سے واضح طورپر زندگی بعد موت کا ممکن ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ مطالبہ کرنا غلط ہے کہ جو لوگ کل دوبارہ پیدا ہونے والے ہیں ان کو آج پیدا کرکے دکھاؤ۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کے لیے ہے۔ اور اگر موجودہ دنیا میں اگلی دنیا کا حال دکھادیا جائے تو امتحان کی مصلحت باقی نہیں رہ سکتی۔