Tazkirul Quran, Qur’an 45:30–32
Kneeling (Al-Jathiyah)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
تکبر سے مراد خدا کے مقابلہ میں تکبر نہیں ہے بلکہ خدا کے داعی کے مقابلہ میں تکبر ہے۔ خدا کی بات کو ماننا موجودہ دنیا میں عملاً خدا کے داعی کی بات کو ماننے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اب جو لوگ تکبر میں مبتلا ہوں وہ اس کو اپنے مرتبہ سے کم تر سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے جیسے ایک انسان کی بات مان لیں۔ چنانچہ وہ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ تکبر کی نفسیات سے خالی ہوں وہ فوراً اس کے آگے جھک جاتے ہیں۔ پہلے گروہ کے لیے خدا کا غضب ہے اور دوسرے گروہ کے لیے خدا کی رحمت۔
ایک انسان جب حق کا انکار کرتا ہے تو اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ طرح طرح کی باتیں کرتا ہے۔ وہ کبھی داعی کو ناقابل اعتماد ثابت کرتا ہے کبھی داعی کے پیغام میں شک وشبہ کا پہلو نکالتا ہے۔مگر قیامت کے دن کھل جائے گا کہ یہ سب مجرمانہ ذہن سے نکلی ہوئی باتیں تھیں، نہ کہ حق پرستانہ ذہن سے نکلی ہوئی باتیں۔