Tazkirul Quran, Qur’an 46:4–6
The Sand Dunes (Al-Ahqaf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
مفسر ابن کثیر نے یہاں ’’کتاب‘‘ سے مراد نقلی دلیل اور ’’أَثارَةٍ مِنْ عِلْمٍ‘‘ سے مراد عقلی دلیل لی ہے (أَيْ لَا دَلِيْلَ لَكُمْ لَا نَقْلِيًّا وَلَا عَقْلِيًّا عَلَى ذَلِكَ) تفسیر ابن کثیر، جلد7، صفحہ 252۔
علم حقيقةً صرف دو ہے۔ ایک الہامی علم (Revealed knowledge)۔ یعنی وہ علم جو پیغمبروں کے ذریعہ سے انسانوں تک پہنچا۔ دوسرا ثابت شدہ علم (Established knowledge)۔ یعنی وہ علم جس کا علم ہونا انسانی تحقیقات اور تجربات سے ثابت ہوگیا ہو۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی علم یہ نہیں بتاتا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سوا کوئی اور ہستی ہے جو خدائی کے لائق ہے۔ اور جب علم کے دو ذریعوں میں سے کوئی ذریعہ شرک کی گواہی نہ دے تو مشرکانہ عقیدہ انسان کے لیے کیوں کردرست ہوسکتا ہے۔ جو شخص خدا کو چھوڑ کر کسی اور چیز کو اپنا سہارا بنائے۔ وہ سہارا آخرت کے دن اس سے برأت کرے گا، نہ کہ وہ اس کا مددگار بنے ۔