Tazkirul Quran, Qur’an 46:7–8
The Sand Dunes (Al-Ahqaf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
قدیم عرب میں قرآن کے مخاطبین قرآن کے پیغام کو یہ کہہ کر رد کردیتے تھے کہ یہ ہمارے اکابر کے دین کے خلاف ہے۔ اور چونکہ لوگوں کے اوپر اکابر کی عظمت بیٹھی ہوئی تھی وہ اس کو مان کر قرآن کے پیغام سے متوحش ہوجاتے تھے۔ مگر قرآن کا ایک اور پہلو تھا اور وہ اس کا ادبی اعجاز تھا۔ ہر عربی داں محسوس کررہا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی کلام ہے۔ اس دوسرے پہلو سے قرآن کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے انھوں نے کہہ دیا کہ یہ ’’سحر‘‘ ہے۔ یعنی یہ جادو بیانی کا کرشمہ ہے نہ کہ حقیقت بیانی کا کمال۔
یہ صحیح ہے کہ بعض انسانوں کے کلام میں غیر معمولی ادبیت ہوتی ہے مگر انسانی کلام کی ادبیت کی ایک حد ہے۔ قرآن کا ادبی اعجاز اس حد سے بہت آگے ہے۔ قرآن کی ادبی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ اس کو انسانی دماغ کا کرشمہ کہاجاسکے۔
جب فریق ثانی ضد پر اتر آئے تو اس وقت ایک سنجیدہ انسان یہ کرتا ہے کہ وہ یہ کہہ کر چپ ہوجاتا ہے کہ میرا اور تمھارا معاملہ الله کے حوالے ہے۔ تاہم یہ پسپائی نہیں بلکہ ایک اقدامی تدبیر ہے۔ آدمی جب ایک ضدی کے سامنے چپ ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو اس کے سامنے سے ہٹا کر خود اس کو اس کے ضمیر کے سامنے کھڑا کردیتا ہے تاکہ اس کے اندر احساس کا کوئی درجہ ہو تو وہ بیدار ہوجائے۔