Tazkirul Quran, Qur’an 46:9–10
The Sand Dunes (Al-Ahqaf)
By Maulana Wahiduddin Khan
Commentary
مشرکین مکہ کی نظر میں یہود علوم دین کےحامل تھے۔ ان کو وہ پیغمبروں والی قوم سمجھتے تھے۔ تجارتی سفروں میں مشرکین اور یہود کی باہمی ملاقاتیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔
رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب مکہ میں ایک نزاعی شخصیت بنے ہوئے تھے تو مکہ کے کچھ مشرکین نے بعض یہودیوں سے آپ کے بارے میں پوچھا۔ اس دوران کسی یہودی عالم نے ان کو بتایا کہ ہماری کتابوں کے مطابق ایک پیغمبر اس علاقہ میں آنے والے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ وہی پیغمبر ہوں۔ اس یہودی شخص نے بالواسطہ انداز میں آپ کی نبوت کا اقرار کیا۔
اب صورت حال یہ تھی کہ تاریخ سے ثابت ہو رہا تھا کہ خدا کے پیغمبر خدا کی کتاب لے کر آتے ہیں۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہ لکھا ہوا تھا کہ بنو اسماعیل میں ایسا ایک پیغمبر آنے والا ہے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا کلام اور آپ کی زندگی میں وہ تمام علامتیں واضح طورپر پائی جارہی تھیں جوپیغمبر وں میں ہوتی ہیں۔ ان علامات اور قرائن کی موجودگی میں جولوگ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پیغمبری کا انکار کررہے تھے وہ کسی معقولیت کی وجہ سے نہیں کررہے تھے بلکہ محض اس لیے کررہے تھے کہ ایک شخص جس کو اب تک وہ ایک معمولی آدمی سمجھتے تھے اس کو خدا کا پیغمبر ماننے میں ان کی بڑائی ٹوٹ جائے گی۔
جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ ان کے سامنے حق آئے تو متکبرانہ نفسیات کا شکار ہوجائیں، ایسے لوگوں کا ذہن ہمیشہ ان کو غلط رخ پر لے جاتا ہے۔ وہ صحیح سمت میں ان کی رہنمائی نہیں کرتا۔